البقرة

بقرہ

286 آیاتمدنیپارہ 1

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 29

    هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ لَكُم مَّا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ ٱسْتَوَىٰٓ إِلَى ٱلسَّمَآءِ فَسَوَّىٰهُنَّ سَبْعَ سَمَـٰوَٰتٍ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ

    وه اللہ جس نے تمہارے لئے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا[1] ، پھر آسمان کی طرف قصد کیا[2] اور ان کو ٹھیک ٹھاک سات آسمان[3] بنایا اور وه ہر چیز کو جانتا ہے۔

    حواشی

    [1] اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ زمین کی اشیاء مخلوقہ کے لئے (اصل) حلت ہے۔ الا یہ کہ کسی چیز کی حرمت نص سے ثابت ہو (فتح القدیر) [2] بعض سلف امت نے اس کا ترجمہ ”پھر آسمان کی طرف چڑھ گیا“ کیا ہے (صحیح بخاری) اللہ تعالیٰ کا آسمانوں کے اوپر عرش پر چڑھنا اور خاص خاص مواقع پر آسمان دنیا پر نزول، اللہ کی صفات میں سے ہے، جن پر اسی طرح بغیر تاویل کے ایمان رکھنا ضروری ہے۔ جس طرح قرآن یا احادیث میں بیان کی گئی ہیں۔ [3] اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ (آسمان) ایک حسی وجود اور حقیقت ہے۔ محض بلندی کو سماء سے تعبیر نہیں کیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ان کی تعداد سات ہے۔ اور حدیث کے مطابق دو آسمانوں کے درمیان سال کی مسافت ہے۔ اور زمین کی بابت قرآن کریم میں ہے «وَمِنَ الأَرْضِ مِثْلَهُنَّ» (الطلاق:12) ”اور زمین بھی آسمان کی مثل ہیں“ اس سے زمین کی تعداد بھی سات ہی معلوم ہوتی ہے جس کی مزید تائید حدیث نبوی سے ہوجاتی ہے : «مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنْ الأَرْضِ ظُلْمًا، فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرْضِينَ» (صحيح بخاري، بدء الخلق ما جاء في سبع أرضين) ”جس نے ظلماً کسی کی ایک بالشت زمین لے لی تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق پہنائے گا۔“ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آسمان سے پہلے زمین کی تخلیق ہوئی ہے۔ لیکن سورہ نازعات میں آسمان کے ذکر کے بعد فرمایا گیا ہے۔ «وَالأَرْضَ بَعْدَ ذَلِكَ دَحَاهَا» ”زمین کو اس کے بعد بچھایا“ اس کی توجیہ یہ کی گئی ہے کہ تخلیق پہلے زمین ہی کی ہوئی ہے اور دَحْوٌ (صاف اور ہموار کرکے بچھانا) تخلیق سے مختلف چیز ہے جو آسمان کی تخلیق کے بعد عمل میں آیا۔ (فتح القدیر)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 29 کی تفسیر

    [29] ﴿هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا﴾ ’’وہی ہے جس نے پیدا کیا تمھارے واسطے جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب‘‘ یعنی اس نے تم پر احسان اور رحم کرتے ہوئے تمھارے فائدے، تمھارے تمتع اور تمھاری عبرت کے لیے زمین کی تمام موجودات کو پیدا کیا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمام اشیاء میں اصل، اباحت اور طہارت ہے۔ (یعنی ہر چیز جائز اور پاک ہے) کیونکہ یہ آیت احسان جتلانے کے سیاق میں ہے۔ اس جواز سے تمام ناپاک چیزیں نکل جاتی ہیں، اس لیے کہ ان کی حرمت بھی فحوائے آیت اور بیان مقصود سے ماخوذ ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان اشیاء کو ہمارے فائدے کے لیے تخلیق فرمایا ہے۔ لہٰذا ان میں سے جس کسی چیز میں کوئی نقصان ہے تو وہ اس اباحت سے خارج ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کاملہ ہے کہ اس نے ہمیں خبائث سے منع کیا تاکہ ہم پاکیزہ رہیں۔ ﴿ ثُمَّ اسْتَوٰۤؔؔى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَهُوَ بِكُ٘لِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ﴾ ’’پھر قصد کیا اس نے آسمان کی طرف، سو ٹھیک کر دیا ان کو سات آسمان، اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔‘‘ کلمہ ’’اِسْتَوٰی‘‘ کے معانی : استویٰ قرآن مجید میں تین معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ (۱)کبھی یہ حرف کے ساتھ مل کر متعدی نہیں ہوتا تب یہ ’’کمال‘‘ اور ’’اتمام‘‘ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً حضرت موسیٰuکے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَاسْتَوٰی﴾ (القصص : 28؍14) ’’جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا اور کامل جوان ہوا۔‘‘ (۲)کبھی یہ ارتفاع اور بلند ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب یہ ’’عَلٰی‘‘ کے ساتھ متعدی ہو۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اَلَرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی﴾ (طٰہ : 20؍5) ’’رحمن جس نے عرش پر قرار پکڑا۔‘‘ اور ارشاد ہے: ﴿لِتَسْتَوُوْا عَلَی ظُھُوْرِہٖ﴾ (الزخرف:43؍13) ’’تاکہ تم ان کی پیٹھ پر قرار پکڑو۔‘‘ (۳) اور کبھی یہ ’’قصد کرنے‘‘ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس وقت یہ ’’اِلٰی‘‘ کے ساتھ متعدی ہوتا ہے، جیسا کہ زیر تفسیر آیت میں ہے۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے زمین پیدا کی تو پھر اس نے آسمانوں کی تخلیق کا قصد کیا ﴿ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ﴾ ’’پھر اس نے انھیں ٹھیک سات آسمان بنا دیا‘‘ یعنی آسمانوں کو پیدا کیا، ان کو مستحکم اور مضبوط کیا۔ ﴿ وَهُوَ بِكُ٘لِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ﴾ ’’وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘ یعنی ﴿ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا یَنْ٘زِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْهَا ﴾ (الحدید: 57؍4) ’’جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے، جو کچھ زمین سے نکلتا ہے، جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ آسمان میں چڑھتا ہے وہ اسے جانتا ہے۔‘‘ اور ﴿یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ﴾ (النحل: 16؍19) ’’جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، وہ سب جانتا ہے۔‘‘ اور ﴿یَعْلَمُ السِّرَّوَاَخْفٰی﴾ (طٰہ20؍7) ’’وہ تمام بھیدوں اور چھپی ہوئی چیزوں کا علم رکھتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے بہت سے مقامات پر اپنی قدرتِ تخلیق اور اپنے لیے اثباتِ علم کو ساتھ ساتھ بیان فرمایا جیسا کہ اس آیت میں اور ایک دوسری آیت میں بیان فرمایا ہے: ﴿اَلاَ یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَھُوَ الَّلطِیْفُ الْخَبِیْرُ﴾ (الملک : 67؍14) ’’کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا، وہ تو تمام پوشیدہ باتوں کو جاننے والا اور باخبر ہے۔‘‘ کیونکہ مخلوقات کو پیدا کرنا اس کے علم و حکمت اور اس کی قدرت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 29 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتآل عمرانآل عمران

غلطی کی اطلاع دیں

مزید