البقرة

بقرہ

286 آیاتمدنیپارہ 1

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 30

    وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَـٰٓئِكَةِ إِنِّى جَاعِلٌ فِى ٱلْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوٓا۟ أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ ٱلدِّمَآءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ إِنِّىٓ أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ

    اور جب تیرے رب نے فرشتوں[1] سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے واﻻ ہوں، تو انہوں[2] نے کہا ایسے شخص کو کیوں پیدا کرتا ہے جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے؟ اور ہم تیری تسبیح، حمد اور پاکیزگی بیان کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔[3]

    حواشی

    [1] مَلائِكَةٌ (فرشتے) اللہ کی نوری مخلوق ہیں، جن کا مسکن آسمان ہے، جو اوامرالٰہی کے بجالانے اور اس کی تحمید وتقدیس میں مصروف رہتے ہیں اور اس کے کسی حکم سے سرتابی نہیں کرتے۔ [2] خَلِيفَةٌ سے مراد ایسی قوم ہے جو ایک دوسرے کے بعد آئے گی اور یہ کہنا کہ انسان اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ اور نائب ہے غلط ہے۔ [3] فرشتوں کا یہ کہنا حسد یا اعتراض کے طور پر نہیں تھا، بلکہ اس کی حقیقت اور حکمت معلوم کرنے کی غرض سے تھا کہ اے رب اس مخلوق کے پیدا کرنے میں کیا حکمت ہے، جب کہ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو فساد پھیلائیں گے اور خون ریزی کریں گے؟ اگر مقصود یہ ہے کہ تیری عبادت ہو تو اس کام کے لئے ہم تو موجود ہیں، ہم سے وہ خطرات بھی نہیں جو نئی مخلوق سے متوقع ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں وہ مصلحت راجحہ جانتا ہوں جس کی بنا پر ان ذکر کردہ مفاسد کے باوجود میں اسے پیدا کر رہا ہوں، جو تم نہیں جانتے۔“ کیوں کہ ان میں انبیا، شہدا، وصالحین اور زہاد بھی ہوں گے۔ (ابن کثیر) ذریت آدم کی بابت فرشتوں کو کیسے علم ہوا کہ وہ فساد برپا کرے گی؟ اس کا اندازہ انہوں نے انسانی مخلوق سے پہلے کی مخلوق کے اعمال یا کسی اور طریقے سے کرلیا ہوگا۔ بعض نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی بتلا دیا تھا کہ وہ ایسے ایسے کام بھی کرے گی۔ یوں وہ کلام میں حذف مانتے ہیں کہ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الأَرْضِ خَلِيفَةً يَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا (فتح القدیر)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 30 کی تفسیر

    [30] ﴿وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً﴾ ’’اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا، میں زمین میں ایک خلیفہ بناؤں گا‘‘ یہ ابوالبشر حضرت آدمuکی تخلیق کی ابتدا اور ان کی فضیلت کا ذکر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کی تخلیق کا ارادہ کیا تو اس نے فرشتوں کو آگاہ کیا اور فرمایا کہ وہ آدم کو زمین کے اندر خلیفہ بنائے گا۔ اس پر تمام فرشتوں نے کہا: ﴿اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا﴾ ’’کیا تو زمین میں اس کو بنائے گا جو اس میں فساد کرے گا‘‘ یعنی گناہوں کا ارتکاب کر کے زمین پر فساد برپا کرے گا ﴿وَیَسْفِکُ الدِّمَآءَ﴾ ’’اور خون بہائے گا‘‘ یہ عموم کے بعدتخصیص ہے اور اس کا مقصد قتل کے مفاسد کی شدت کو بیان کرنا ہے۔ اور یہ فرشتوں کے گمان کے مطابق تھا کہ وہ ہستی جسے زمین میں خلیفہ بنایا جارہا ہے اس کی تخلیق سے زمین کے اندر فساد ظاہر ہو گا، چنانچہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور عظمت بیان کرتے ہوئے عرض کی کہ وہ اس طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کر رہے ہیں جو تمام مفاسد سے پاک ہے۔ چنانچہ انھوں نے کہا: ﴿ وَنَحْنُ نُ٘سَبِّحُ بِحَمْدِكَ﴾ ’’اور ہم تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں تیری خوبیوں کے ساتھ‘‘ یعنی ہم ایسی تنزیہ کے ساتھ تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں جو تیری حمد و جلال کے لائق ہے۔ ﴿وَنُقَدِّسُ لَکَ﴾ اس میں ایک معنی کا احتمال یہ ہے کہ ہم تیری تقدیس بیان کرتے ہیں یعنی (نُقَدِّسُکَ) اس صورت میں لام تخصیص اور اخلاص کا فائدہ دے گا۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس کے معنی ہوں۔ (وَنُقَدِّسُ لَکَ اَنْفُسَنَا) ’’ہم اپنے آپ کو تیرے لیے پاک کرتے ہیں‘‘ یعنی ہم اپنے نفوس کو اخلاق جمیلہ جیسے محبت الٰہی، خشیت الٰہی اور تعظیم الٰہی کے ذریعے سے پاک کرتے ہیں اور ہم اپنے نفسوں کو اخلاق رزیلہ سے بھی پاک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ﴾ یعنی میں جانتا ہوں کہ یہ خلیفہ کون ہے۔ ﴿مَالَا تَعْلَمُوْنَ﴾ جو تم نہیں جانتے کیونکہ تمھارا کلام تو ظن اور گمان پر مبنی ہے جب کہ میں ظاہر و باطن کا علم رکھتا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ اس خلیفہ کی تخلیق سے جو خیر اور بھلائی حاصل ہو گی وہ اس شر سے کئی گنا زیادہ ہے جو اس کی تخلیق میں مضمر ہے اور اس میں یہ بات بھی نہ ہوتی، تب بھی اللہ تعالیٰ کا یہ ارادہ کہ وہ انسانوں میں سے انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کو چنے، اس کی نشانیاں مخلوق پر واضح ہوں اور اس سے عبودیات کی وہ کیفیتیں حاصل ہوں جو اس خلیفہ کی تخلیق کے بغیر حاصل نہ ہو سکتی تھیں، جیسے جہاد وغیرہ ہیں اور امتحان اور آزمائش کے ذریعے سے خیروشر کی وہ قوتیں ظاہر ہوں جو مکلفین کی فطرت میں پوشیدہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں اور دوستوں اور اس کے خلاف جنگ لڑنے والوں اور حزب اللہ کے مابین امتیاز ہو۔ اور ابلیس کا وہ شر ظاہر ہو جو اس کی فطرت میں پوشیدہ ہے اور جس سے وہ متصف ہے۔ تو آدمuکی تخلیق میں یہ حکمتیں ہی اتنی عظیم ہیں کہ ان میں سے چند ایک بھی اس کی تخلیق کے لیے کافی ہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 30 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتآل عمرانآل عمران

غلطی کی اطلاع دیں

مزید