البقرة

بقرہ

286 آیاتمدنیپارہ 1

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 59

    فَبَدَّلَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ قَوْلًا غَيْرَ ٱلَّذِى قِيلَ لَهُمْ فَأَنزَلْنَا عَلَى ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ رِجْزًا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ

    پھر ان ﻇالموں نے اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی[1] بدل ڈالی، ہم نے بھی ان ﻇالموں پر ان کے فسق ونافرمانی کی وجہ سے آسمانی عذاب[2] نازل کیا۔

    حواشی

    [1] اس کی وضاحت ایک حدیث میں آتی ہے جو صحیح بخاری وصحیح مسلم وغیرہ میں ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: ان کو حکم دیا گیا تھا کہ سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں، لیکن وہ سرینوں کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے داخل ہوئے اور حِطَّةٌ کے بجائے حَبَّة فِي شَعرَةٍ (یعنی گندم بالی میں) کہتے رہے۔ اس سے ان کی اس سرتابی وسرکشی کا، جو ان کے اندر پیدا ہوگئی تھی اور احکام الٰہی سے تمسخر واستہزا کا جس کا ارتکاب انہوں نے کیا، اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جب کوئی قوم اخلاق وکردار کے لحاظ سے زوال پذیر ہوجائے تو اس کا معاملہ پھر احکام الٰہیہ کے ساتھ اسی طرح کا ہوجاتا ہے۔ [2] یہ آسمانی عذاب کیا تھا؟ بعض نے کہا غضب الٰہی، سخت پالا، طاعون۔ اس آخری معنی کی تائید حدیث سے ہوتی ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: ”یہ طاعون اسی رجز اور عذاب کا حصہ ہے جو تم سے پہلے بعض لوگوں پر نازل ہوا۔ تمہاری موجودگی میں کسی جگہ یہ طاعون پھیل جائے تو وہاں سے مت نکلو اور اگر کسی اور علاقے کی بابت تمہیں معلوم ہو کہ وہاں طاعون ہے تو وہاں مت جاؤ“ (صحيح مسلم، كتاب السلام باب الطاعون والطيرة والكهانة ونحوها حديث ٢٢١٨)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 59 کی تفسیر

    [59] ﴿فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا﴾ یعنی ان لوگوں نے اس قول کو بدل دیا تھا جنھوں نے ان میں سے ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے (فَبَدَّلُوْا) ’’ان سب نے بدل دیا‘‘ نہیں فرمایا کیونکہ سب لوگ قول کو بدلنے والے نہ تھے ﴿قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ﴾ ’’بات، سوائے اس بات کے جو ان سے کہی گئی تھی‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی توہین اور اس سے استہزا کرتے ہوئے حِطَّۃٌ کی بجائے (حَبَّۃٌ فِیْ حِنْطَۃٍ) کا لفظ کہا۔ جب ’’قول‘‘ کو باوجود اس کے کہ وہ آسان تھا، انھوں نے اسے بدل دیا تو ’’فعل‘‘ کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے، اس لیے وہ (اللہ تعالیٰ کے حکم کے برعکس) اپنے سرینوں پر گھسٹتے ہوئے دروازے میں داخل ہوئے۔ چونکہ یہ سرکشی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے واقع ہونے کا سب سے بڑا سبب تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿فَاَنْزَلْنَا عَلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا﴾ یعنی ان میں سے ظالموں پر عذاب نازل کیا۔ ﴿مِنَ السَّمَآءِ﴾ یعنی ان کی نافرمانی اور ان کے بغاوت کے رویہ کے سبب سے (آسمان سے یہ عذاب نازل ہوا۔)

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 59 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتآل عمرانآل عمران

غلطی کی اطلاع دیں

مزید