البقرة

بقرہ

286 آیاتمدنیپارہ 1

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 62

    إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱلَّذِينَ هَادُوا۟ وَٱلنَّصَـٰرَىٰ وَٱلصَّـٰبِـِٔينَ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ وَعَمِلَ صَـٰلِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

    مسلمان ہوں، یہودی[1] ہوں، نصاریٰ[2] ہوں یا صابی[3] ہوں، جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ﻻئے اور نیک عمل کرے ان کے اجر ان کے رب کے پاس ہیں اور ان پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ اداسی[4]

    حواشی

    [1] يَهُود هَوَادَةٌ (بمعنی محبت) سے یا تَهَوّدٌ (بمعنی توبہ) سے بنا ہے۔ گویا ان کا یہ نام اصل میں توبہ کرنے یا ایک دوسرے کے ساتھ محبت رکھنے کی وجہ سے پڑا۔ تاہم موسیٰ (عليه السلام) کے ماننے والوں کو یہود کہا جاتا ہے۔ [2] نَصَارَى، نَصْرَانٌ کی جمع ہے۔ جیسے سُكَارَى سَكْرَانُ کی جمع ہے۔ اس کا مادہ نصرت ہے۔ آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی وجہ سے ان کا نام پڑا، ان کو انصار بھی کہا جاتا ہے جیسا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کو کہا تھا: «نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ» حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے پیروکاروں کو نصاریٰ کہا جاتا ہے، جن کو عیسائی بھی کہتے ہیں۔ [3] صَابِئِينَ صَابِئٌ کی جمع ہے۔ یہ لوگ وہ ہیں جو یقیناً ابتداءً کسی دین حق کے پیرو رہے ہوں گے (اسی لئے قرآن میں یہودیت و عیسائیت کے ساتھ ان کا ذکر کیا گیا ہے) لیکن بعد میں ان کے اندر فرشتہ پرستی اور ستارہ پرستی آگئی، یا یہ کسی بھی دین کے پیرو نہ رہے۔ اسی لئے لا مذہب لوگوں کو صابی کہا جانے لگا۔ [4] بعض جدید مفسرین کو اس آیت کا مفہوم سمجھنے میں بڑی غلطی لگی ہے اور اس سے انہوں نے وحدت ادیان کا فلسفہ کشید کرنے کی مذموم سعی کی ہے۔ یعنی رسالت محمدیہ پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے، بلکہ جو بھی جس دین کو مانتا ہے اور اس کے مطابق ایمان رکھتا اور اچھے عمل کرتا ہے، اس کی نجات ہوجائے گی، یہ فلسفہ سخت گمراہ کن ہے، آیت کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے سابقہ آیات میں یہود کی بدعلمیوں اور سرکشیوں اور اس کی بنا پر ان کے مستحق عذاب ہونے کا تذکرہ فرمایا تو ذہن میں اشکال پیدا ہوسکتا تھا کہ ان یہود میں جو لوگ صحیح، کتاب الٰہی کے پیرو اور اپنے پیغمبر کی ہدایات کے مطابق زندگی گزارنے والے تھے، ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کیا معاملہ فرمایا؟ یا کیا معاملہ فرمائے گا؟ اللہ تعالیٰ نے اس کی وضاحت فرمادی کہ صرف یہودی ہی نہیں، نصاریٰ اور صابی بھی اپنے اپنے وقت میں جنہوں نے اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھا اور عمل صالح کرتے رہے، وہ سب نجات اخروی سے ہمکنار ہوں گے اور اسی طرح اب رسالت محمدیہ پر ایمان لانے والے مسلمان بھی اگر صحیح طریقے سے ایمان باللہ والیوم الآخر اور عمل صالح کا اہتمام کریں تو یہ بھی یقیناً آخرت کی ابدی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ نجات اخروی میں کسی کے ساتھ امتیاز نہیں کیا جائے گا۔ وہاں بےلاگ فیصلہ ہوگا۔ چاہے مسلمان ہوں یا رسول آخرالزمان (صلى الله عليه وسلم) سے پہلے گزر جانے والے یہودی، عیسائی اور صابی وغیرھم۔ اس کی تائید بعض مرسل آثار سے ہوتی ہے، مثلاً مجاہد حضرت سلمان فارسی! سے نقل کرتے ہیں جس میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی (صلى الله عليه وسلم) سے ان اہل دین کے بارے میں پوچھا جو میرے ساتھی تھے، عبادت گزار اور نمازی تھے (یعنی رسالت محمدیہ سے قبل وہ اپنے دین کے پابند تھے) تو اس موقعے پر یہ آیت نازل ہوئی۔ «إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا»۔ الآیۃ (ابن کثیر) قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے اس کی مزید تائید ہوتی ہے مثلاً «إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الإِسْلامُ» (آل عمران: 19) اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہی ہے۔ «وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ» (آل عمران: 85) جواسلام کے سوا کسی اور دین کا متلاشی ہوگا، وہ ہرگز مقبول نہیں ہوگا اور احادیث میں بھی نبی (صلى الله عليه وسلم) نے وضاحت فرمادی کہ اب میری رسالت پر ایمان لائے بغیر کسی شخص کی نجات نہیں ہوسکتی، مثلاً فرمایا: «والَّذِي نَفْسِي بِيَدِه! لا يَسْمَعُ بِي رَجَلٌ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَّلا نَصْرَانِيٌّ ثُمّ لا يُؤْمِنُ بِي إِلا دَخَل النَّارَ» (صحيح مسلم ، كتاب الإيمان ، باب وجوب الإيمان برسالة نبينا محمد (صلى الله عليه وسلم) ) ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری اس امت میں جو شخص بھی میری بابت سن لے، وہ یہودی ہو یا عیسائی، پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنم میں جائے گا۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ وحدت ادیان کی گمراہی، جہاں دیگر آیات قرآنی کو نظرانداز کرنے کا نتیجہ ہے، وہاں احادیث کے بغیر قرآن کو سمجھنے کی مذموم سعی کا بھی اس میں بہت دخل ہے۔ اسی لئے یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ احادیث صحیحہ کے بغیر قرآن کو نہیں سمجھا جاسکتا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 62 کی تفسیر

    [62] پھر اہل کتاب کے مختلف گروہوں کے درمیان محاکمہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ حکم خاص طور پر اہل کتاب کے لیے ہے کیونکہ صابئین کے بارے میں صحیح ترین رائے یہ ہے کہ یہ نصاریٰ ہی کا ایک فرقہ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اس امت کے اہل ایمان ، یہود و نصاریٰ اور صابئین میں سے جو کوئی اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لایا اور اپنے رسولوں کی تصدیق کی ان کے لیے اجر عظیم اور امن ہے۔ ان پر کسی قسم کا خوف ہو گا نہ وہ غمزدہ ہوں گے۔ ان میں سے جس کسی نے اللہ تعالیٰ ، اس کے انبیاء و رسل اور یوم آخرت کا انکار کیا تو ان کا حال مذکورہ بالا لوگوں کے حال کے برعکس ہو گا، پس وہ خوف اور غم سے دوچار ہوں گے۔ (مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں) صحیح مسلک یہ ہے کہ ان فرقوں کے مابین یہ محاکمہ رسول اللہeپر ایمان لانے کی نسبت سے نہیں بلکہ ان کی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق ہے۔ کیونکہ یہ تو نبی اکرمeکی بعثت سے قبل ان کے احوال کی خبر ہے۔ یہ قرآن کا طریقہ ہے۔ جب سیاق آیات کے بارے میں بعض نفوس وہم کا شکار ہوجائیں تو لازمی طور پر وہ کوئی ایسی چیز ضرور پائیں گے جو ان کے وہم کو زائل کر دے۔ کیونکہ یہ کلام ایسی ہستی کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو اشیاء کے وجود میں آنے سے قبل ہی ان کو جانتی ہے۔ اس کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے ..واللہ تعالیٰ أعلم.. چونکہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بنی اسرائیل کا ذکر مذمت کے طور پر کیا ہے اور ان کے گناہوں اور برائیوں کا تذکرہ کیا ہے اور بسا اوقات دل میں خیال پیدا ہوتا ہے کہ اس مذمت میں تمام بنی اسرائیل شامل ہیں، اس لیے اللہ نے ایسے لوگوں کے بارے میں واضح کر دیا جو اس مذمت میں شامل نہیں۔ نیز چونکہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا خاص طور پر ذکر کیا ہے جس سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ باتیں صرف بنی اسرائیل ہی سے متعلق ہیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ایک عام حکم بیان کر دیا جو تمام طوائف کو شامل ہے تاکہ حق واضح اور وہم و اشکال دور ہو جائے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی کتاب میں ایسی چیزیں بیان کی ہیں جو عقلوں کو متحیر کر دیتی ہیں۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 62 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتآل عمرانآل عمران

غلطی کی اطلاع دیں

مزید