طه

طہ

135 آیاتمکیپارہ 16

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 110

    يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِهِۦ عِلْمًا

    جو کچھ ان کے آگے پیچھے ہے اسے اللہ ہی جانتا ہے مخلوق کا علم اس پر حاوی نہیں ہو سکتا.[1]

    حواشی

    [1] گزشتہ آیت میں شفاعت کے لیے جو اصول بیان فرمایا گیا ہے اس میں اس کی وجہ اور علت بیان کر دی گئی ہے کہ چونکہ اللہ کے سوا کسی کو بھی کسی کی بابت پورا علم نہیں ہے کہ کون کتنا بڑا مجرم ہے؟ اور وہ اس بات کا مستحق ہے بھی یا نہیں کہ اس کی سفارش کی جا سکے؟ اس لیے اس بات کا فیصلہ بھی اللہ تعالٰی ہی فرمائے گا کہ کون کون لوگ انبیاء وصلحا کی سفارش کے مستحق ہیں؟ کیونکہ ہر شخص کے جرائم کی نوعیت وکیفیت کو اس کے سواء کوئی نہیں جانتا اور نہ جان ہی سکتا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 108 - 110 کی تفسیر

    [110-108] اس لیے فرمایا: ﴿ یَوْمَىِٕذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ ﴾ ’’اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے لگیں گے۔‘‘ اور یہ اس وقت ہو گا جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے کھڑے ہوں گے اور پکارنے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے اور ایک جگہ جمع ہونے کے لیے پکارے گا تو وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے اس کی طرف جائیں گے اور دائیں بائیں وہ اس سے نظر ہٹائیں گے نہ دائیں بائیں التفات کریں گے۔ فرمایا: ﴿ لَا عِوَجَ لَهٗ﴾ یعنی پکارنے والے کی دعوت میں کوئی کجی نہ ہو گی بلکہ اس کی دعوت تمام خلائق کے لیے حق اور صدق پر مبنی ہو گی اور وہ پکار کر تمام خلائق تک اپنی آواز پہنچائے گا۔ تمام لوگ قیامت کے میدان میں حاضر ہوں گے اور رحمٰن کے سامنے ان کی آوازیں پست ہوں گی۔ ﴿ فَلَا تَ٘سْمَعُ اِلَّا هَمْسًا﴾ ’’پس نہیں سنے گا تو سوائے کھسر پھسر کے۔‘‘ یعنی فقط قدموں کی چاپ یا ہونٹوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی پست آواز سنائی دے گی اور ان پر خشوع، سکوت اور خاموشی طاری ہو گی اور رب رحمٰن کے فیصلے کے منتظر ہوں گے اور چہرے تذلل اور خضوع سے جھکے ہوئے ہوں گے۔ تم اس عظیم مقام پر دیکھو گے کہ دولت مند اور فقراء، مرد اور عورتیں ، آزاد اور غلام، بادشاہ اور عوام سب نظریں نیچے کیے ساکت اور خاموش گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اور گردنوں کو جھکائے ہوئے ہوں گے۔ کسی کو معلوم نہیں ہو گا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ہر شخص اپنے باپ، بھائی اور دوست یار کو بھول کر صرف اپنے معاملے میں مشغول ہو گا۔ ﴿لِكُ٘لِّ امْرِئٍ مِّؔنْهُمْ یَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِ﴾ (عبس:80؍37) ’’اس روز ہر شخص ایک معاملے میں مصروف ہو گا جو اسے دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گا۔‘‘ حاکم عادل اس بارے میں فیصلہ کرے گا، نیکوکار کو اس کی نیکی کی جزا دے گا اور بدکار کو محروم کرے گا۔ رب کریم اور رحمٰن و رحیم پر امید یہ ہے کہ تمام خلائق اس کے ایسے فضل و احسان، عفو و درگزر اور بخشش کو دیکھے گی، زبان جس کی تعبیر سے قاصر اور فکر اس کے تصور سے بے بس ہے۔ تب تمام خلائق اس کی رحمت کی منتظر ہو گی مگر رحمت ان لوگوں کے لیے مختص ہو گی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ امید آپ کیسے رکھ سکتے ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اس امید مذکور کا آپ کو کیسے علم ہوا؟ تو ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے، اس کی عنایات تمام مخلوقات پر عام ہیں ۔ ہم اس دنیاوی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمیں اور دیگر لوگوں کو لامحدود نعمتیں حاصل ہیں خاص طور پر روز قیامت کے متعلق اللہ کے یہ فرامین ﴿وَخَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ ﴾، ﴿ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ ﴾ اور ﴿اَلْمُلْكُ یَوْمَىِٕذِ ِ۟ الْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ﴾ (الفرقان:25؍26) اس امر پر دلالت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ e نے فرمایا ’’اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں اس نے ایک حصہ اپنے بندوں کے لیے نازل فرمایا ہے، اس رحمت ہی کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم اور عاطفت سے پیش آتے ہیں حتیٰ کہ ایک چوپائے کا پاؤں اگر اس کے بچے پر آ جائے تو وہ اپنے پاؤں کو اٹھا لیتا ہے تاکہ وہ اس کو روند نہ ڈالے یہ اس رحم کی وجہ سے ہے جو اس چوپائے کے دل میں ودیعت کیا گیا ہے۔ جب قیامت کا روز ہو گا تو رحمت کا یہ حصہ بھی ننانوے حصے میں شامل ہو جائے گا اور اللہ رحمت کے ان سو حصوں کے ساتھ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب جعل اللہ الرحمۃفی مائۃ جزء، ح:6000 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ…، ح:2752) رسول اللہe نے فرمایا ’’ماں اپنی اولاد کے لیے جس قدر رحیم ہے اللہ اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں کے لیے رحیم ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الادب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ و معانقتہ، ح:5999) اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں آپ جو چاہیں کہیں وہ آپ کے اندازوں اور آپ کے تصور سے کہیں زیادہ ہے… پس پاک ہے وہ ذات، جو اپنے عدل و انصاف اور سزا دینے میں اسی طرح رحیم ہے جس طرح وہ اپنے فضل و احسان اور ثواب عطا کرنے میں رحیم ہے۔ بلند و بالا ہے وہ ہستی جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس کا فضل و کرم ہر زندہ مخلوق کو شامل ہے، وہ اپنی بے نیازی کے باعث اپنے بندوں سے بالا و برتر اور ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بندے اپنے تمام احوال میں ہمیشہ اس کے محتاج ہیں اور لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ فرمایا: ﴿ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِیَ لَهٗ قَوْلًا﴾ یعنی اس کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے ہاں سفارش نہیں کر سکے گا اور وہ صرف اس شخص کے لیے سفارش کی اجازت دے گا جس کے لیے وہ راضی ہو گا، یعنی انبیاء و مرسلین اور مقرب بندوں کو صرف ان لوگوں کے لیے سفارش کی اجازت ہو گی جن کی باتوں کو اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور وہ صرف مخلص مومن ہیں ۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی معدوم ہو گی تو کسی کے لیے کسی کی سفارش قبول نہ ہو گی۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 110 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتانبیاءالأنبياء

غلطی کی اطلاع دیں

مزید