طه

طہ

135 آیاتمکیپارہ 16

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 117

    فَقُلْنَا يَـٰٓـَٔادَمُ إِنَّ هَـٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ ٱلْجَنَّةِ فَتَشْقَىٰٓ

    تو ہم نے کہا اے آدم! یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے (خیال رکھنا) ایسا نہ ہو کہ وه تم دونوں کو جنت سے نکلوا دے کہ تو مصیبت میں پڑ جائے.[1]

    حواشی

    [1] یہ شقا، محنت ومشقت کے معنی میں ہے، یعنی جنت میں کھانے پینے، لباس اور مسکن جو سہولتیں بغیر کسی محنت کے حاصل ہیں۔ جنت سے نکل جانے کی صورت میں ان چاروں چیزوں کے لئے محنت و مشقت کرنی پڑے گی، جس طرح کہ ہر انسان کو دنیا میں ان بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لئے محنت کرنی پڑ رہی ہے۔ علاوہ ازیں صرف آدم (عليه السلام) سے کہا گیا کہ محنت مشقت میں پڑ جائیگا۔ دونوں کو نہیں کہا گیا حالانکہ درخت کا پھل کھانے والے آدم (عليه السلام) و حوا دونوں ہی تھے۔ اس لئے اصل مخاطب آدم ہی تھے۔ نیز بنیادی ضروریات کی فراہمی بھی مرد ہی کی ذمہ داری ہے عورت کی نہیں۔ اللہ تعالٰی نے عورت کو اس محنت و مشقت سے بچا کر گھر کی ملکہ کا اعزاز عطا فرمایا ہے۔ لیکن آج عورت کو یہ ”اعزاز الہٰی“ ”طوق غلامی“ نظر آتا ہے جس سے آزاد ہونے کے لیے وہ بے قرار اور مصروف جہد ہے آہ! اغوائے شیطانی بھی کتنا موثر اور اس کا جال بھی کتنا حسین اور دلفریب ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 117 - 119 کی تفسیر

    [118,117] تب آدم اور ان کی بیوی کے ساتھ حد کو پہنچی ہوئی اس کی عداوت ظاہر ہوئی۔ چونکہ شیطان اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے اور اس کا وہ حسد بھی ظاہر ہو گیا جو اس عداوت کا سبب تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آدمu اور ان کی بیوی کو اس سے چوکنا رہنے کا حکم دیا۔ فرمایا: ﴿فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا۠ مِنَ الْجَنَّةِ فَ٘تَ٘شْ٘قٰى ﴾ اگر تمھیں جنت سے نکال دیا گیا تو تم بدنصیب ٹھہرو گے کیونکہ جنت میں تمھارے لیے لا محدود رزق اور راحت کامل ہے۔ ﴿ اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَلَا تَعْرٰىۙ وَاَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَلَا تَضْحٰؔى ﴾ یعنی وہاں تجھے سورج کی دھوپ نہیں لگے گی۔ وہاں دائمی طور پر مطعومات و مشروبات، لباس اور پانی کی فراہمی، تکان وغیرہ کی عدم موجودگی کی ضمانت ہو گی، البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک معین درخت کے قریب جانے سے روک دیا۔ فرمایا: ﴿وَلَا تَ٘قْ٘رَبَ٘ا هٰؔذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُ٘وْ٘نَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ﴾ (البقرۃ:2؍35) ’’تم دونوں اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ ظالموں میں ہو جاؤ گے۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 117 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتانبیاءالأنبياء

غلطی کی اطلاع دیں

مزید