طه

طہ

135 آیاتمکیپارہ 16

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 122

    ثُمَّ ٱجْتَبَـٰهُ رَبُّهُۥ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدَىٰ

    پھر اس کے رب نے نوازا، اس کی توبہ قبول کی اور اس کی رہنمائی کی.[1]

    حواشی

    [1] اس سے بعض لوگ استدال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت آدم (عليه السلام) سے مذکورہ غلطیوں کا ہونا، نبوت سے قبل ہوا، اور نبوت سے اس کے بعد آپ کو نوازا گیا۔ لیکن ہم نے گزشتہ صفحے میں اس ”معصیت“ کی حقیقت بیان کی ہے، وہ عصمت کے منافی نہیں رہتی۔ کیونکہ ایسا سہو و نسیان، جس کا تعلق تبلیغ رسالت اور تشریع سے نہ ہو، بلکہ ذاتی افعال سے ہو اور اس میں بھی اس کا سبب ضعف ارادہ ہو تو یہ دراصل وہ معصیت ہی نہیں ہے، جس کی بناء پر انسان غضب الٰہی کا مستحق بنتا ہے۔ اس پر جو معصیت کا اطلاق کیا گیا ہے تو محض ان کی عظمت شان اور مقام بلند کی وجہ سے کہ بڑوں کی معمولی غلطی کو بھی بڑا سمجھ لیا جاتا ہے، اس لئے آیت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے اس کے بعد اسے نبوت کے لئے چن لیا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ندامت اور توبہ کے بعد ہم نے اسے پھر اسی مقام پر فائز کر دیا، جو پہلے انہیں حاصل تھا۔ ان کو زمین پر اتار نے کا فیصلہ، ہماری مشیت اور حکمت و مصلحت پر مبنی تھا، اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ ہمارا غضب ہے جو آدم پر نازل ہوا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 122 کی تفسیر

    [122] ﴿ رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ﴾ (الاعراف:7؍23) ’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا، اگر تو ہمیں بخش نہ دے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘ پس حضرت آدمu کو ان کے رب نے چن لیا اور ان کو توبہ کی توفیق سے نوازا۔ ﴿ فَتَابَ عَلَیْهِ وَهَدٰؔى ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی اور راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کی اور حضرت آدمu کا توبہ کے بعد کا حال توبہ سے پہلے کے حال سے بہتر تھا۔ دشمن کا مکروفریب اسی کی طرف پلٹ گیا اس کی چال الٹ گئی اور حضرت آدم u اور ان کی اولاد پر اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اتمام ہوگیا اور ان پر واجب ہو گیا کہ وہ اس کو قائم رکھیں اور اس کا اعتراف کریں ، نیز وہ اپنے دشمن سے بچتے رہیں جو دن رات ان کی تاک میں رہتا ہے۔ فرمایا: ﴿یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّ٘یْطٰ٘نُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْ٘زِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُ٘رِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَقَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَؔ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴾ (الاعراف:7؍27) ’’اے بنی آدم! دیکھنا کہیں شیطان تمھیں فتنے میں مبتلا نہ کر دے جیسے اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوایا تھا، یعنی ان کا لباس اتروایا تاکہ ان کے سامنے ان کا ستر کھول دے۔ وہ اور اس کے بھائی بند تمھیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطان کو ان لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 122 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتانبیاءالأنبياء

غلطی کی اطلاع دیں

مزید