طه

طہ

135 آیاتمکیپارہ 16

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 24

    ٱذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ

    اب تو فرعون کی طرف جا اس نے بڑی سرکشی مچا رکھی ہے.[1]

    حواشی

    [1] فرعون کا ذکر اس لئے کیا کہ اس نے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی قوم بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا اور اس پر طرح طرح کے ظلم روا رکھتا تھا۔ علاوہ ازیں اس کی سرکشی و طغیانی بھی بہت بڑھ گئی تھی حتٰی کہ وہ دعویٰ کرنے لگا تھا «اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى» (النازعات:24) «”یں تمہارا بلند تر رب ہوں“۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 24 کی تفسیر

    [24] جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ u پر وحی نازل کر کے انھیں نبوت عطا کر دی اور انھیں بڑے بڑے معجزات کا مشاہدہ کروا دیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں مصر کے بادشاہ فرعون کی طرف مبعوث کیا اور فرمایا: ﴿ اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى ﴾ ’’فرعون کی طرف جا، وہ سرکش ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی وہ ، اپنے کفر و فسادمیں ، زمین میں تغلب اور کمزوروں پر ظلم کرنے میں حد سے بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ اس نے ربویت اور الوہیت کا دعویٰ کر دیا… قبحہ اللّٰہ… یعنی اس کی سرکشی اس کی ہلاکت کا سبب ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اس کی حکمت اور اس کا عدل ہے کہ وہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک کہ انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے اس پر حجت قائم نہیں کر دیتا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 24 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتانبیاءالأنبياء

غلطی کی اطلاع دیں

مزید