طه

طہ

135 آیاتمکیپارہ 16

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 37

    وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَيْكَ مَرَّةً أُخْرَىٰٓ

    ہم نے تو تجھ پرایک بار اور بھی بڑا احسان کیا ہے.[1]

    حواشی

    [1] قبولیت دعا کی خوشخبری کے ساتھ مزید تسلی اور حوصلے کے لئے اللہ تعالٰی بچپن کے اس احسان کا ذکر فرما رہا ہے، جب موسیٰ (عليه السلام) کی ماں نے قتل کے اندیشے سے اللہ کے حکم سے،(یعنی القائے الٰہی) سے انہیں، جب وہ شیر خوار بچے تھے تابوت میں ڈل کر دریا کے سپرد کر دیا تھا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 37 - 39 کی تفسیر

    [39-37] اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرنے کے بعد کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمرانu کو دین، وحی،رسالت اور قبولیت دعا سے نوازا… اس نعمت کا ذکر فرمایا جو اس نے حضرت موسیٰu کو ان کی پرورش اور ان کو ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتے وقت عطا کی تھی، چنانچہ فرمایا: ﴿وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤى ﴾ ’’اور ہم نے تجھ پر احسان کیا دوسری مرتبہ‘‘ جب ہم نے تیری والدہ کی طرف الہام کیا کہ وہ تجھ کو رضاعت کے وقت، فرعون کے خوف سے، ایک صندوق میں ڈال دے کیونکہ فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرنے کا حکم دے رکھا تھا، موسیٰ u کی والدہ نے آپ کو چھپا دیا، انھیں حضرت موسیٰu کے بارے میں سخت خوف لاحق ہوا چنانچہ انھوں نے آپ کو ایک صندوق میں رکھ کر دریا یعنی دریائے نیل میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ وہ اس صندوق کو کنارے پر لگا دے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کر دیا کہ اس صندوق کو، اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰu کا سب سے بڑا دشمن پکڑ لے اور اس کی اپنی اولاد کے ساتھ تربیت حاصل کرے اور جو کوئی اس کو دیکھے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ وَاَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ﴾ ’’اور میں نے ڈال دی تجھ پر محبت اپنی طرف سے۔‘‘ یعنی جو کوئی آپ کو دیکھتا محبت کرنے لگتا تھا۔ ﴿وَلِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْ ﴾ یعنی تاکہ تو میری آنکھوں کے سامنے، میری حفاظت میں تربیت حاصل کرے اور رحیم و کریم اللہ کی سرپرستی سے بڑھ کر کس کی کفالت اور دیکھ بھال جلیل القدر اور کامل ہو سکتی ہے، جو اپنے بندے کو اس کے مصالح عطا کرنے اور ضرر رساں امور کو اس سے دور کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے؟ پس موسیٰ u ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے تو اللہ تعالیٰ ہی ان کی مصلحت کے مطابق ان کی تدبیر فرماتا ۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 37 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتانبیاءالأنبياء

غلطی کی اطلاع دیں

مزید