طه

طہ

135 آیاتمکیپارہ 16

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 63

    قَالُوٓا۟ إِنْ هَـٰذَٰنِ لَسَـٰحِرَٰنِ يُرِيدَانِ أَن يُخْرِجَاكُم مِّنْ أَرْضِكُم بِسِحْرِهِمَا وَيَذْهَبَا بِطَرِيقَتِكُمُ ٱلْمُثْلَىٰ

    کہنے لگے یہ دونوں محض جادوگر ہیں اور ان کا پختہ اراده ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کر دیں اور تمہارے بہترین مذہب کو برباد کر دیں.[1]

    حواشی

    [1] مُثْلَى، طَرِيقَةٌ کی صفت ہے یہ أَمْثَلُ کی تانیث ہے افضل کے معنی میں مطلب یہ ہے کہ اگر یہ دونوں بھائی اپنے ”جادو“ کے زور سے غالب آ گئے، تو سادات و اشراف اس کی طرف مائل ہو جائیں گے، جس سے ہمارا اقتدار خطرے میں اور ان کے اقتدار کا امکان بڑھ جائے گا۔ علاوہ ازیں ہمارا بہترین طریقہ یا مذہب، اسے بھی یہ ختم کر دیں گے۔ یعنی اپنے مشرکانہ مذہب کو بھی انہوں نے ”بہترین“ قرار دیا جیسا کہ آج بھی ہر باطل مذہب اور فرقے کے پیروکار اسی زعم فاسد میں مبتلا ہیں سچ فرمایا اللہ نے «كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ» ( الروم ۔32) «ہر فرقہ جو اس کے پاس ہے اس پر ریجھ رہا ہے»۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 63 کی تفسیر

    [63] وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالُوْۤا اِنْ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ یُرِیْدٰؔنِ اَنْ یُّخْرِجٰؔكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا﴾ ’’انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں ۔‘‘ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا: ﴿وَیَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ۠ الْ٘مُثْ٘لٰى﴾ ’’اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں ۔‘‘ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ u تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 63 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتانبیاءالأنبياء

غلطی کی اطلاع دیں

مزید