الأنبياء

انبیاء

112 آیاتمکیپارہ 17

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 103

    لَا يَحْزُنُهُمُ ٱلْفَزَعُ ٱلْأَكْبَرُ وَتَتَلَقَّىٰهُمُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ هَـٰذَا يَوْمُكُمُ ٱلَّذِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ

    وه بڑی گھبراہٹ[1] (بھی) انہیں غمگین نہ کر سکے گی اور فرشتے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیں گے، کہ یہی تمہارا وه دن ہے جس کا تم وعده دیئے جاتے رہے.

    حواشی

    [1] بڑی گھبراہٹ سے موت یا صور اسرافیل مراد ہے یا وہ لمحہ جب دوزخ اور جنت کے درمیان موت کو ذبح کر دیا جائے گا۔ دوسری بات یعنی صور اسرافیل اور قیام قیامت سیاق کے زیادہ قریب ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 103 کی تفسیر

    [103] ﴿ لَا یَحْزُنُهُمُ الْ٘فَزَعُ الْاَكْبَرُ ﴾ ’’نہیں غم میں ڈالے گی انھیں بڑی گھبراہٹ۔‘‘ یعنی جب لوگ بہت زیادہ گھبراہٹ میں ہوں گے تو انھیں کسی قسم کا قلق نہ ہو گا اور یہ قیامت کے روز ہو گا۔ جب جہنم کو قریب لایا جائے گا جہنم کفار اور نافرمان لوگوں پر سخت غضبناک ہو گی، اس بنا پر لوگ سخت گھبراہٹ میں مبتلا ہوں گے۔ مگر انھیں کوئی غم نہ ہو گا کیونکہ انھیں علم ہو گا کہ وہ اللہ کے پاس کیا لے کر حاضر ہوئے جائیں ، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس چیز سے مامون کر دیا ہے جس سے وہ ڈرتے تھے۔ ﴿ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ﴾ ’’اور ہاتھوں ہاتھ لیں گے ان کو فرشتے۔‘‘ جب فرشتے ان کو ان کی قبروں سے اٹھائیں گے اور وہ نیک لوگوں کے پاس ان کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے وفد کی صورت میں آئیں گے اور ان کو مبارک دیتے ہوئے کہیں گے: ﴿ هٰؔذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ﴾ ’’یہ تمھارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔‘‘ لہٰذا تمھیں مبارک ہو وہ وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے تم سے کیا ہے… تمھارے سامنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عزت و تکریم تمھاری منتظر ہے اس پر تمھیں بہت زیادہ خوش ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں خوفناک اور ناپسندیدہ حالات سے تمھیں محفوظ و مامون رکھا ہے اس پر تمھیں بے پایاں فرحت اور سرور ہونا چاہیے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 103 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحجالحج

غلطی کی اطلاع دیں

مزید