الأنبياء

انبیاء

112 آیاتمکیپارہ 17

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 24

    أَمِ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةً ۖ قُلْ هَاتُوا۟ بُرْهَـٰنَكُمْ ۖ هَـٰذَا ذِكْرُ مَن مَّعِىَ وَذِكْرُ مَن قَبْلِى ۗ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ٱلْحَقَّ ۖ فَهُم مُّعْرِضُونَ

    کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں، ان سے کہہ دو ﻻؤ اپنی دلیل پیش کرو۔ یہ ہے میرے ساتھ والوں کی کتاب اور مجھ سے اگلوں کی دلیل[1] ۔ بات یہ ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے اسی وجہ سے منھ موڑے ہوئے ہیں.

    حواشی

    [1] ذِكْرُ مَنْ مَّعِيَ سے قرآن اور دوسرے ذکر سے سابقہ کتب آسمانی مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن میں اور اس سے قبل کی دیگر کتابوں میں، سب میں صرف ایک ہی معبود کی الوہیت و ربوبیت کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن یہ مشرکین اس حق کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اور بدستور اس توحید سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 24 کی تفسیر

    [24] پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کے احوال کی تحقیر کی طرف لوٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا بہت سے معبود بنا لیے ہیں ، لہٰذا ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہو! ﴿ اَمِ اتَّؔخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ قُ٘لْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ﴾ یعنی اپنے موقف کی صحت پر حجت اور دلیل لاؤ مگر وہ کبھی دلیل نہ لا سکیں گے بلکہ اس کے برعکس ان کے اس موقف کے بطلان پر قطعی دلائل دلالت کرتے ہیں ، اس لیے فرمایا: ﴿ هٰؔذَا ذِكْرُ مَنْ مَّ٘عِیَ وَذِكْرُ مَنْ قَ٘بْلِیْ ﴾ یعنی تمام آسمانی کتابیں اور شریعتیں ، ابطال شرک کے بارے میں میرے موقف کی صحت پر متفق ہیں ۔ یہ اللہ کی کتاب ہے جس میں عقلی اور نقلی دلائل کے ساتھ ہر چیز کا ذکر موجود ہے اور یہ سابقہ تمام کتب ہیں ، یہ بھی میرے موقف پر واضح دلیل اور برہان ہیں اور چونکہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ ان کے موقف کے بطلان پر حجت و برہان قائم ہو گئی اس لیے صاف ظاہر ہو گیا کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں کیونکہ دلیل و برہان قطعی طور پر فیصلہ کر دیتی ہے کہ اس کا کوئی معارض نہیں ۔ اگر بظاہر کچھ معارضات موجود ہوں تو یہ محض شبہات ہیں جو حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آ سکتے۔ ﴿بَلْ اَ كْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ الْحَقَّ ﴾ یعنی وہ اپنے اسلاف کی تقلید کی بنا پر اپنے باطل موقف پر قائم ہیں اور بغیر کسی علم اور ہدایت کے جھگڑا کرتے ہیں ۔ ان کا حق کے علم سے محروم ہونے کا باعث یہ نہیں کہ حق مخفی ہے بلکہ اس محرومی کا سبب ان کی حق سے روگردانی ہے۔ ورنہ اگر انھوں نے حق کی طرف ادنیٰ سا التفات بھی کیا ہوتا تو حق ان پر روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا، اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ ﴾ ’’پس وہ اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 24 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحجالحج

غلطی کی اطلاع دیں

مزید