الأنبياء

انبیاء

112 آیاتمکیپارہ 17

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 58

    فَجَعَلَهُمْ جُذَٰذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ

    پس اس نے ان سب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے ہاں صرف بڑے بت کو چھوڑ دیا یہ بھی اس لئے کہ وه سب اس کی طرف ہی لوٹیں.[1]

    حواشی

    [1] چنانچہ وہ جس دن اپنی عید یا کوئی جشن مناتے تھے، ساری قوم اس کے لئے باہر چلی گئی اور ابراہیم (عليه السلام) نے موقع غنیمت جان کر انہیں توڑ پھوڑ کر رکھ دیا صرف ایک بڑا بت چھوڑ دیا، بعض کہتے ہیں کہ کلہاڑی اس کے ہاتھ میں پکڑا دی تاکہ وہ اس سے پوچھیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 58 کی تفسیر

    [58] چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم u چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا ﴾ اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ﴾ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔ ذرا اس عجیب ’’احتراز‘‘ پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی e کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے: (الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی ’’اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف‘‘ اور ﴿اِلَی الْعَظِیْمِ﴾ ’’یعنی بڑی ہستی کی طرف‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔ یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ﴾ ’’ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔‘‘ اور یہ نہیں فرمایا :(کبیرا من اصنامھم) ’’ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو‘‘ پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔ ﴿ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ ﴾ یعنی ابراہیم u نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ ﴾ ’’پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 58 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحجالحج

غلطی کی اطلاع دیں

مزید