الأنبياء

انبیاء

112 آیاتمکیپارہ 17

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 80

    وَعَلَّمْنَـٰهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُم مِّنۢ بَأْسِكُمْ ۖ فَهَلْ أَنتُمْ شَـٰكِرُونَ

    اور ہم نے اسے تمہارے لئے لباس بنانے کی کاریگری سکھائی تاکہ لڑائی کے ضرر سے تمہارا بچاؤ ہو[1] ۔ کیا تم شکر گزار بنو گے؟

    حواشی

    [1] یعنی لوہے کو ہم نے داؤد (عليه السلام) کے لئے نرم کر دیا تھا، وہ اس سے جنگی لباس، لوہے کی زریں تیار کرتے تھے، جو جنگ میں تمہاری حفاظت کا ذریعہ ہیں۔ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت داؤد (عليه السلام) سے پہلے بھی زریں بنتی تھیں۔ لیکن وہ سادہ بغیر کنڈوں اور بغیر حلقوں کے ہوتی تھیں، حضرت داؤد (عليه السلام) پہلے شخص ہیں جنہوں نے کنڈے دار حلقے والی زریں بنائیں (ابن کثیر)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 80 کی تفسیر

    [80] ﴿ وَعَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّـكُمْ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے داؤد u کو زرہ بکتر بنانے کا علم بخشا اور حضرت داؤدu پہلے شخص ہیں جنھوں نے زرہ بکتر بنائی اور پھر اس کا علم آئندہ آنے والوں کی طرف منتقل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے لوہے کو نرم کر دیا اور ان کو زرہ بنانا سکھایا، اس میں بہت بڑا فائدہ ہے۔ ﴿لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَ٘اْسِكُمْ﴾ یعنی سخت لڑائی اور جنگ میں تمھاری حفاظت کرنے والی ہے۔ ﴿ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہو جو اس نے اپنے بندے داؤدu کے توسط سے تمھیں عطا کی؟ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَّجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَسَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَ٘اْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُ٘سْلِمُوْنَ ﴾ (النحل:16؍81) ’’اور تمھارے لیے ایسی پوشاک بنائی جو گرمی سے تمھاری حفاظت کرتی ہے اور ایسی پوشاک بنائی جو جنگ میں تمھاری حفاظت کرتی ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم سرتسلیم خم کرو۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا داؤد u کو زرہ بکتر بنانا سکھانا اور ان کے لیے لوہے کو نرم کرنا، خارق عادت امر ہو… جیسا کہ مفسرین کہتے ہیں … اللہ تعالیٰ نے داؤد u کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔ وہ لوہے کو آگ میں پگھلائے بغیر اسی طرح استعمال میں لاتے تھے گویا کہ وہ گندھا ہوا آٹا اور گندھی مٹی ہو۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ عادت جاریہ کے مطابق انھیں لوہے کو استعمال میں لانا سکھایا گیا ہو۔ اللہ کی طرف سے لوہے کو نرم کرنے کی تعلیم ان معروف اسباب میں سے سے ہو جن کے ذریعے سے آج کل لوہا پگھلایا جاتا ہے… اور یہی راجح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا اور ان کو اس پر شکر کرنے کا حکم دیا اور اگر صنعت آہن گری ان امور میں سے نہ ہوتی جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو تصرف کی قدرت عطا کی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر اس احسان اور اس کے فوائد کا ذکر نہ کرتا کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ داؤد u کی جن زرہوں کے بنانے کا ذکر ہے اس سے مراد متعین زرہیں ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تو زرہ بکتر کی جنس کا ذکر کر کے اپنا احسان یاد دلایا ہے اور وہ احتمال جس کا ذکر اصحاب تفسیر کرتے ہیں تو اس کی کوئی دلیل نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے ﴿وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَ﴾ (سبا:34؍10) ’’ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کر دیا۔‘‘ اور اس میں یہ واضح نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لوہے کو بغیر کسی سبب کے نرم کر دیا تھا۔ واللہ اعلم۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 80 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحجالحج

غلطی کی اطلاع دیں

مزید