الأنبياء

انبیاء

112 آیاتمکیپارہ 17

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 95

    وَحَرَٰمٌ عَلَىٰ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَـٰهَآ أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ

    اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا اس پر ﻻزم ہے کہ وہاں کے لوگ پلٹ کر نہیں آئیں گے.[1]

    حواشی

    [1] حرام واجب کے معنی میں ہے، جیسا کہ ترجمے میں واضح ہے۔ یا پھر لَا یَرْجِعُوْنَ میں لَا زائد ہے، یعنی جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا، اس کا دنیا میں پلٹ کر آنا حرام ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 95 کی تفسیر

    [95] یعنی ان بستیوں کا، جنھیں عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالا گیا، اپنی کوتاہیوں کی تلافی کی خاطر اس دنیا میں واپس لوٹنا ممکن نہیں ، پس ان کے لیے واپس لوٹنے کا کوئی راستہ نہیں جنھیں عذاب کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالا گیا۔ اس لیے مخاطبین کو ان اعمال پر جمے رہنے سے ڈرنا چاہیے جو ہلاکت کا باعث بنتے ہیں … مباداکہ یہ اعمال انھیں ہلاکت میں ڈال دیں اور اس وقت اس ہلاکت سے بچنا ممکن نہ ہو گا، اس لیے تلافی اور استدراک کے وقت اس قسم کے کاموں سے باز آ جانا چاہیے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 95 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتحجالحج

غلطی کی اطلاع دیں

مزید