الحج

حج

78 آیاتمدنیپارہ 17

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 19

    ۞ هَـٰذَانِ خَصْمَانِ ٱخْتَصَمُوا۟ فِى رَبِّهِمْ ۖ فَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِّن نَّارٍ يُصَبُّ مِن فَوْقِ رُءُوسِهِمُ ٱلْحَمِيمُ

    یہ دونوں اپنے رب کے بارے میں اختلاف کرنے[1] والے ہیں، پس کافروں کے لئے تو آگ کے کپڑے بیونت کر کاٹے جائیں گے، اور ان کے سروں کے اوپر سے سخت کھولتا ہوا پانی بہایا جائے گا.

    حواشی

    [1] هَذَانِ خَصْمَانِ یہ دونوں تثنیہ کے صیغے ہیں بعض نے اس سے مراد مذکورہ گمراہ فرقے اور اس کے مقابلے میں دوسرا فرقہ مسلمان کو لیا ہے۔ یہ دونوں اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں، مسلمان تو وحدانیت اور اس کی قدرت علی البعث کے قائل ہیں، جب کہ دوسرے اللہ کے بارے میں مختلف گمراہیوں میں مبتلا ہیں۔ اس ضمن میں جنگ بدر میں لڑنے والے مسلمان اور کافر بھی آجاتے ہیں، جس کے آغاز میں مسلمانوں میں ایک طرف حضرت حمزہ، حضرت علی اور حضرت عبیدۃ (رضي الله عنهم)تھے اور دوسری طرف ان کے مقابلے میں کافروں میں عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ تھے (صحیح بخاری، تفسیر سورة الحج)امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ یہ دونوں ہی مفہوم صحیح اور آیت کے مطابق ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 19 - 22 کی تفسیر

    [22-19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مابین مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿هٰؔذٰنِ خَ٘صْمٰنِ اخْ٘تَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ ﴾ ’’یہ دو فریق ہیں جو اپنے رب کے بارے میں جھگڑتے ہیں ۔‘‘ ان میں سے ہر فریق دعویٰ کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے۔ ﴿فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا ﴾ یہ جملہ تمام کفار، یعنی یہود، نصاریٰ، مجوس، صابئین اور مشرکین کو شامل ہے۔ ﴿ قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ ﴾ یعنی ان کے کپڑے گندھک کے ہوں گے جن میں آگ شعلہ زن ہو گی تاکہ عذاب ان کو ہر جانب سے پوری طرح گھیرلے۔ ﴿یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُؔءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُ﴾ یعنی ان کے سروں پر سخت کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا جس کی شدت حرارت سے ان کے پیٹ کے اندر گوشت، چربی، انتڑیاں گل جائیں گی۔ ﴿ وَلَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ ﴾ ’’اور ان کے لیے ہتھوڑے ہوں گے لوہے كے۔‘‘ جو سخت اور درشت خو فرشتوں کے ہاتھوں میں ہوں گے جن کے ساتھ وہ ان کو ماریں گے اور سزا دیں گے۔ فرمایا: ﴿ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا ﴾ ’’جب بھی وہ اس جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے، غم کی وجہ سے تو وہ اسی میں لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘ پس کسی وقت بھی عذاب ان سے منقطع ہو گا نہ ان کو مہلت دی جائی گی بلکہ زجروتوبیخ کرتے ہوئے ان سے کہا جائے گا: ﴿وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ ﴾ یعنی دلوں اور بدنوں کو جلانے والا عذاب چکھو۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 19 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمؤمنونالمؤمنون

غلطی کی اطلاع دیں

مزید