الحج

حج

78 آیاتمدنیپارہ 17

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 53

    لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِى ٱلشَّيْطَـٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَٱلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ ۗ وَإِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ لَفِى شِقَاقٍۭ بَعِيدٍ

    یہ اس لئے کہ شیطانی ملاوٹ کو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ بنا دے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں[1] ۔ بیشک ﻇالم لوگ گہری مخالفت میں ہیں.

    حواشی

    [1] یعنی شیطان یہ حرکتیں اس لئے کرتا ہے کہ لوگوں کو گمراہ کرے اور اس کے جال میں لوگ پھنس جاتے ہیں جن کے دلوں میں کفر و نفاق کا روگ ہوتا ہے گناہ کرکے ان کے دل سخت ہو چکے ہوتے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 53 کی تفسیر

    [53] پس یہ اس کے کمال حکمت کا حصہ ہے کہ اس نے شیاطین کو القاء کا اختیار دیا تاکہ اس امر کا حصول ہو جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لِّیَجْعَلَ مَا یُلْ٘قِی الشَّ٘یْطٰ٘نُ فِتْنَةً ﴾ ’’تاکہ کر دے اللہ القائے شیطانی کو آزمائش۔‘‘ لوگوں کے دو گروہوں کے لیے فتنہ بنا دے۔ اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں اور یہ وہ لوگ ہیں ﴿ لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُ٘لُوْبِهِمْ مَّرَضٌ ﴾ جن کے دلوں میں کمزوری ہے اور ان کے دلوں میں ایمان کامل اور تصدیق جازم معدوم ہیں ۔ پس یہ القاء ایسے دلوں پر اثر کرتا ہے جن کے دلوں میں ادنیٰ سا شبہ بھی ہوتا ہے، جب وہ اس شیطانی القاء کو سنتے ہیں تو شک و ریب ان کے دلوں میں گھر کر لیتا ہے اور یہ چیز ان کے لیے فتنہ بن جاتی ہے۔ ﴿ وَّالْقَاسِیَةِ قُ٘لُوْبُهُمْ﴾ یعنی (دوسرا گروہ) وہ لوگ ہیں جن کے دل سخت ہوتے ہیں ۔ ان کی قساوت قلبی کی بنا پر کوئی وعظ و نصیحت اور کوئی زجر و توبیخ ان پر اثرکرتی ہے نہ اللہ اور اس کے رسول کی کوئی بات ان کی سمجھ میں آتی ہے۔ پس جب وہ شیطانی القاء کو سنتے ہیں تو اسے اپنے باطل کے لیے حجت بنا لیتے ہیں اور اس کو دلیل بنا کر جھگڑا کرتے ہیں اور پھر اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ،اسی لیے فرمایا: ﴿ وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَ٘فِیْ شِقَاقٍۭؔ بَعِیْدٍ﴾ یعنی یہ ظالم لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دشمنی، حق کے ساتھ عناد اور اس کی مخالفت میں راہ صواب سے بہت دور نکل گئے ہیں ۔ پس شیطان جو کچھ القاء کرتا ہے وہ ان دونوں قسم کے گروہوں کے لیے فتنہ بن جاتا ہے اور یوں ان کے دلوں میں جو خبث چھپا ہوتا ہے ظاہر ہو جاتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 53 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمؤمنونالمؤمنون

غلطی کی اطلاع دیں

مزید