الحج

حج

78 آیاتمدنیپارہ 17

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 67

    لِّكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا هُمْ نَاسِكُوهُ ۖ فَلَا يُنَـٰزِعُنَّكَ فِى ٱلْأَمْرِ ۚ وَٱدْعُ إِلَىٰ رَبِّكَ ۖ إِنَّكَ لَعَلَىٰ هُدًى مُّسْتَقِيمٍ

    ہر امت کے لئے ہم نے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کر دیا ہے، جسے وه بجا ﻻنے والے[1] ہیں پس انہیں اس امر میں آپ سے جھگڑا نہ کرنا چاہئے[2] آپ اپنے پروردگار کی طرف لوگوں کو بلائیے۔ یقیناً آپ ٹھیک ہدایت پر ہی ہیں.[3]

    حواشی

    [1] یعنی ہر زمانے میں ہم نے لوگوں کے لئے ایک شریعت مقرر کی، جو بعض چیزوں میں سے ایک دوسرے سے مختلف بھی ہوتی، جس طرح تورات، امت موسیٰ (عليه السلام) کے لئے، انجیل امت عیسیٰ (عليه السلام) کے لئے شریعت تھی اور اب قرآن امت محمدیہ کے لئے شریعت اور ضابطہ حیات ہے۔ [2] یعنی اللہ نے آپ کو جو دین اور شریعت عطا کی ہے، یہ بھی مذکورہ اصول کے مطابق ہی ہے، ان سابقہ شریعت والوں کو چاہیے کہ اب آپ (صلى الله عليه وسلم) کی شریعت پر ایمان لے آئیں، نہ کہ اس معاملے میں آپ (صلى الله عليه وسلم) سے جھگڑیں۔ [3] یعنی آپ (صلى الله عليه وسلم) ان کے جھگڑے کی پرواہ نہ کریں، بلکہ ان کو اپنے رب کی طرف دعوت دیتے رہیں، کیونکہ اب صراط مستقیم پر صرف آپ ہی گامزن ہیں، یعنی پچھلی شریعتیں منسوخ ہوگئی ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 67 کی تفسیر

    [67] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے ہر امت کے لیے ﴿ مَنْسَكًا ﴾ ایک عبادت مقرر کی ہے جو عدل و حکمت پر متفق ہونے کے باوجود بعض امور میں مختلف ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ لِكُ٘لٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا١ؕ وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ لِّیَبْلُوَؔكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ ﴾ (المائدۃ:5؍48) ’’ہم نے تم میں سے ہر ایک گروہ کے لیے ایک شریعت اور طریقہ مقرر کیا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمھیں ایک ہی امت بنا دیتا مگر اس نے جو احکام تمھیں دیے ہیں وہ ان میں تمھیں آزمانا چاہتا ہے۔‘‘ ﴿ هُمْ نَاسِكُوْهُ ﴾ یعنی وہ اس پر اپنے احوال کے مطابق عمل پیرا ہیں ، اس لیے ان شریعتوں میں سے کسی شریعت پر اعتراض کی گنجائش نہیں ، خاص طور پر ان پڑھوں کے لیے جو شرک اور کھلی جہالت میں مبتلا ہیں کیونکہ جب رسول کی رسالت دلائل کے ساتھ ثابت ہو گئی تو اس پر اعتراض کو ترک کرنا، ان تمام احکام کو قبول کرنا اور ان کے سامنے سرتسلیم کرنا واجب ہے، جو رسول لے کر آیا ہے، بناء بریں فرمایا: ﴿ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ ﴾ یعنی آپe کی تکذیب کرنے والے اپنی فاسد عقل کی بنیاد پر آپ کے ساتھ جھگڑا کریں نہ آپ کی لائی ہوئی کتاب پر اعتراض کریں ، جیسے وہ اپنے فاسد قیاس کی بنا پر مردار کی حلت کے بارے میں آپe سے جھگڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’جسے تم قتل کرتے ہو اسے تو کھا لیتے ہو اور جسے اللہ تعالیٰ قتل کرتا ہے اسے نہیں کھاتے‘‘ اور جیسے وہ سود کی حلت کے لیے کہتے ہیں : ’’تجارت بھی تو سود ہی کی مانند ہے‘‘ اور اس قسم کے دیگر اعتراضات، جن کا جواب دینا لازم نہیں ۔ وہ درحقیقت، اصل رسالت ہی کے منکر ہیں ، جس میں کسی بحث اور مجادلے کی گنجائش نہیں بلکہ ہر مقام کے لیے ایک الگ دلیل اور گفتگو ہے۔ اس قسم کا اعتراض کرنے والا، منکر رسالت جب یہ دعویٰ کرے کہ وہ تو صرف تلاش حق کے لیے بحث کرتا ہے تو اس سے یہ کہا جائے: ’’آپ کے ساتھ صرف رسالت کے اثبات اور عدم اثبات پر گفتگو ہو سکتی ہے‘‘ ورنہ اس کا صرف اپنی بات پر اقتصار کرنا، اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا مقصد محض عاجز کرنا اور مشقت میں ڈالنا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولe کو حکم دیا ہے کہ وہ لوگوں کو حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اپنے رب کی طرف بلائیں اور اسی رویے کو اپنائے رکھیں ، خواہ معترضین اعتراض کریں یا نہ کریں اور یہ مناسب نہیں کہ کوئی چیز آپ کو اس دعوت سے ہٹا دے کیونکہ ﴿اِنَّكَ لَ٘عَ٘لٰ٘ى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ ﴾ ’’یقینا آپe سیدھے راستے پر ہیں ‘‘ جو معتدل اور منزل مقصود پر پہنچاتا ہے اور علم حق اور اس پر عمل کا متضمن ہے۔ آپ کو اپنی دعوت کی حقانیت پر اعتماد اور اپنے دین پر یقین ہے، لہٰذا یہ اعتماد اور یقین اس امر کے موجب ہیں کہ آپe اپنے موقف پر سختی سے جمے رہیں اور وہ کام کرتے رہیں جس کا آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے۔ آپe کا موقف مشکوک اور کمزور نہیں یا آپ کی دعوت جھوٹ پر مبنی نہیں کہ آپ لوگوں کی خواہشات نفس اور ان کی آراء کی طرف التفات کریں اور ان کا اعتراض آپe کی راہ کو کھوٹا کر دے۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ ﴾ (النمل:27؍79) ’’اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے، بے شک آپ واضح حق پر ہیں ۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِنَّكَ لَ٘عَ٘لٰ٘ى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ ﴾ میں جزئیات شرع پر معترضین کے اس اعتراض کے جواب کی طرف اشارہ ہے جو عقل صحیح پر مبنی ہے کیونکہ ہدایت ہر اس چیز کا وصف ہے جسے رسول لے کر آئے ہیں ۔ ہدایت وہ طریق کار ہے جس سے اصولی اور فروعی مسائل میں راہنمائی حاصل ہوتی ہے اور یہ وہ مسائل ہیں جن کا حسن اور جن میں پنہاں عدل و حکمت عقل صحیح اور فطرت سلیم کے نزدیک معروف ہے اور یہ چیز مامورات و منہیات کی تفاصیل پر غور کرنے سے معلوم کی جا سکتی ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 67 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمؤمنونالمؤمنون

غلطی کی اطلاع دیں

مزید