الحج

حج

78 آیاتمدنیپارہ 17

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 74

    مَا قَدَرُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَقَوِىٌّ عَزِيزٌ

    انہوں نے اللہ کے مرتبہ کے مطابق اس کی قدر جانی ہی نہیں[1] ، اللہ تعالیٰ بڑا ہی زور وقوت واﻻ اور غالب وزبردست ہے.

    حواشی

    [1] یہی وجہ ہے کہ لوگ اس کی بےبس مخلوق کو اس کا ہمسر اور شریک قرار دے لیتے ہیں۔ اگر ان کو اللہ تعالٰی کی عظمت و جلالت، اس کی قدرت و طاقت اور اس کی بےپناہی کا صحیح صحیح اندازہ اور علم ہو تو وہ کبھی اس کی خدائی میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 73 - 74 کی تفسیر

    [74,73] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بتوں کی عبادت کی قباحت، ان کی عبادت کرنے والوں میں عقل کی کمی اور ان سب کی کمزوری کو بیان کرنے کے لیے ایک مثال بیان کی ہے۔ فرمایا: ﴿ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ﴾ ’’اے لوگو!‘‘ یہ خطاب مومنین اور کفار دونوں کے لیے ہے۔ اس سے اہل ایمان کے علم و بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے اور کفار کے خلاف حجت قائم ہوتی ہے۔ ﴿ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ﴾ یعنی اس بیان کردہ مثال کو غور سے سنو اور اس کے مطالب کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ یہ تمھارے دلوں کو غافل اور تمھارے کانوں کو اس سے اعراض کرنے والا نہ پائے بلکہ اپنے کانوں اور دلوں سے خوب غور سے سنو۔ وہ مثال یہ ہے۔ ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔‘‘ یہ آیت کریمہ ان تمام ہستیوں کو شامل ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔ ﴿ لَ٘نْ یَّخْلُ٘قُوْا ذُبَ٘ابً٘ا ﴾ ’’وہ مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے‘‘ جو حقیر ترین اور خسیس ترین مخلوق ہے۔ پس وہ اس نہایت کمزور سی مخلوق کو پیدا کرنے پر قادر نہیں ہیں ، اس لیے بڑی مخلوق تو وہ کیا پیدا کر سکتے ہیں ؟ ﴿ وَّلَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ﴾ ’’اگرچہ وہ سب اکٹھے کیوں نہ ہو جائیں ۔‘‘ بلکہ اس سے بھی بلیغ تر بات یہ ہے کہ ﴿ وَاِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَ٘ابُ شَیْـًٔؔا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ۠ مِنْهُ﴾ ’’اگر مکھی ان سے کچھ چھین کر لے جائے تو وہ اس سے وہ بھی نہیں چھڑا سکتے۔‘‘ یہ عجز اور بے بسی کی انتہاء ہے۔ ﴿ ضَعُفَ الطَّالِبُ ﴾ ’’کمزور ہے طالب۔‘‘ یعنی وہ جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے ﴿ وَالْمَطْلُوْبُ ﴾ ’’اور وہ جس سے طلب کیا جا رہا ہے۔‘‘ یعنی مکھی، پس دونوں ہی کمزور ہیں اور ان دونوں سے بھی کمزور تر وہ لوگ ہیں جنھوں نے ان کو رب العالمین کے مقام پر فائز کر رکھا ہے۔ پس یہ وہ لوگ ہیں ﴿مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ﴾ ’’جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر نہ پہچانی جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایک ایسی ہستی کو جو ہر لحاظ سے محتاج اور عاجز ہے، اس اللہ تعالیٰ کا ہم پلہ بنا دیا جو ہر اعتبار سے بے نیاز اور طاقتور ہے۔ انھوں نے اس ہستی کو، جو خود اپنے یا کسی دوسرے کے لیے کسی نفع و نقصان کی مالک ہے نہ زندگی اور موت کا اختیار رکھتی ہے اور نہ دوبارہ زندہ اٹھانے پر قادر ہے، اس ہستی کے برابر ٹھہرا دیا جو نفع و نقصان کی مالک ہے، جو عطا کرتی ہے اور محروم کرتی ہے، جو اقتدار کی مالک اور اپنی بادشاہی میں ہر قسم کا تصرف کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ ﴾ یعنی وہ کامل قوت اور کامل عزت کا مالک ہے اس کی قوت کاملہ اور کامل غلبے کا یہ حال ہے کہ تمام مخلوق کی پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں ۔ اس کے ارادہ اور مشیت کے بغیر کوئی چیز حرکت کر سکتی ہے نہ ساکن ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ ہو جاتا ہے، جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہو سکتا اور یہ اس کا کمال قوت ہے کہ وہ تمام مخلوق کو اول سے لے کر آخر تک، ایک چنگھاڑ کے ذریعے سے زندہ اٹھا کر کھڑا کرے گا اور یہ اس کا کمال قوت ہے کہ اس نے بڑے بڑے جابروں اور سرکش قوموں کو ایک معمولی سی چیز اور اپنے عذاب کے کوڑے سے ہلاک کر ڈالا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 74 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمؤمنونالمؤمنون

غلطی کی اطلاع دیں

مزید