الحج

حج

78 آیاتمدنیپارہ 17

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 77

    يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱرْكَعُوا۟ وَٱسْجُدُوا۟ وَٱعْبُدُوا۟ رَبَّكُمْ وَٱفْعَلُوا۟ ٱلْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ۩

    اے ایمان والو! رکوع سجده کرتے رہو[1] اور اپنے پروردگار کی عبادت میں لگے رہو اور نیک کام کرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ.[2]

    حواشی

    [1] یعنی اس نماز کی پابندی کرو جو شریعت میں مقرر کی گئی ہے۔ آگے عبادت کا بھی حکم آرہا ہے۔ جس میں نماز بھی شامل تھی، لیکن اس کی اہمیت و افضلیت کے پیش نظر اس کا خصوصی حکم دیا۔ [2] یعنی فلاح (کامیابی) اللہ کی عبادت اور اطاعت یعنی افعال خیر اختیار کرنے میں ہے، نہ کہ اللہ کی عبادت و اطاعت سے گریز کرکے محض مادی اسباب و وسائل کی فراہمی اور فراوانی میں، جیسا کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 77 کی تفسیر

    [77] اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو نماز کا حکم دیتا ہے اور اس نے رکوع و سجود کا، ان کی فضیلت اور ان کے رکن نماز ہونے کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ نماز اس کی عبادت ہے جو آنکھوں کی ٹھنڈک اور غمزدہ دل کے لیے تسلی ہے۔ اس کی ربوبیت اور بندوں پر اس کا احسان ان سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ عبادت کو اس کے لیے خالص کریں ۔ نیز اللہ تعالیٰ عمومی طور پر ان کو بھلائی کے کاموں کا حکم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فلاح کو انھی امور سے وابستہ کیا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿لَعَلَّـكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ یعنی تم اپنے مطلوب و مرغوب کے حصول اور ناپسندیدہ اور خوفناک امور سے نجات پانے میں کامیاب ہو جاؤ گے۔ پس اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص اور اس کے بندوں کو نفع پہنچانے کی کوشش کے سوا، فلاح کے حصول کا کوئی راستہ نہیں ۔ جسے اس راستے کی توفیق حاصل ہو گئی اسی کے لیے کامیابی، سعادت اور فلاح ہے۔ ﴿ وَجَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ﴾ ’’اور اللہ کی راہ میں ویسا ہی جہاد کرو جیسے جہاد کا حق ہے۔‘‘ مقصود و مطلوب کے حصول میں پوری کوشش کرنا جہاد ہے۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد، جیساکہ جہاد کرنے کا حق ہے… یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو پوری طرح نافذ کیا جائے، مخلوق کو ہر طریقے سے اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دی جائے۔ خیر خواہی سے، تعلیم، قتال اور تادیب سے، زجرو توبیخ یا وعظ و نصیحت کے ذریعے سے اس مقصد کے لیے جس طریقے اور ذریعے کی بھی ضرورت ہو، اسے اختیار کیا جائے۔ ﴿ هُوَ اجْتَبٰؔىكُم ﴾ یعنی اے مسلمانوں کے گروہ! اس نے تمھیں لوگوں سے چن لیا ہے اور تمھارے لیے دین کو منتخب کرکے اسے تمھارے لیے پسند کرلیا ہے، تمھارے لیے افضل ترین کتاب اور افضل ترین رسولe کو منتخب کیا، اس لیے جہاد کو اچھی طرح قائم کرکے اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نوازش کا بدلہ دو۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 77 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمؤمنونالمؤمنون

غلطی کی اطلاع دیں

مزید