الحج

حج

78 آیاتمدنیپارہ 17

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 9

    ثَانِىَ عِطْفِهِۦ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۖ لَهُۥ فِى ٱلدُّنْيَا خِزْىٌ ۖ وَنُذِيقُهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ عَذَابَ ٱلْحَرِيقِ

    جو اپنی پہلو موڑنے واﻻ بن کر[1] اس لئے کہ اللہ کی راه سے بہکادے، اسے دنیا میں بھی رسوائی ہوگی اور قیامت کے دن بھی ہم اسے جہنم میں جلنے کا عذاب چکھائیں گے.

    حواشی

    [1] ثانی اسم فاعل ہے موڑنے والا عطف کے معنی پہلو کے ہیں یہ یجادل سے حال ہے اس میں اس شخص کی کیفیت بیان کی گئی ہے جو بغیر کسی عقلی اور نقلی دلیل کے اللہ کے بارے میں جھگڑتا ہے کہ وہ تکبر اور اعراض کرتے ہوئے اپنی گردن موڑتے ہوئے پھرتا ہے جیسے دوسرے مقامات پر اس کیفیت کو ان الفاظ سے ذکر کیا گیا ہے۔«وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا» (لقمان:7) «لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ» (المنافقون:5) «اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ» (الاسراء:83)

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 9 کی تفسیر

    [9] اس کے ساتھ ساتھ ﴿ ثَانِیَ عِطْفِهٖ﴾ وہ گردن اکڑائے، منہ موڑ کر چلتا ہے یہ حق کے بارے میں اس کے تکبر اور مخلوق کے ساتھ اس کے حقارت آمیز رویے کے لیے کنایہ ہے۔ پس وہ اسی پر فرحاں و شاداں ہے کہ اس کے پاس غیر نافع علم ہے اور وہ حق اور اہل حق کو حقیر گردانتا ہے۔ ﴿ لِیُضِلَّ ﴾ ’’تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے‘‘ یعنی گمراہی کے داعیوں میں اس کا شمار ہو۔ اس آیت کریمہ کے تحت تمام ائمہ کفروضلالت آ جاتے ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے دنیاوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ ﴾ یعنی وہ آخرت سے پہلے، اس دنیا ہی میں رسوا ہو گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک عجیب نشانی ہے۔ آپ داعیان کفر و ضلالت میں سے جس کو بھی دیکھیں وہ تمام لوگوں کی ناراضی، لعنت، بغض اور مذمت کا اسی طرح نشانہ ہوتا ہے جیسے وہ اس کا مستحق ہوتا ہے اور ہر شخص حسب حال جزا پاتا ہے۔ ﴿ وَّنُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ ﴾ یعنی ہم اسے جہنم کی سخت گرمی اور اس کی بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ اور یہ سب کچھ اس کے ان کرتوتوں کی وجہ سے ہے جو اس نے آگے بھیجے۔ [10] ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ دنیاوی اور اُخروی عذاب جس کا ذکر کیا گیا اور اس میں بعد کا جو معنی پایا جاتا ہے (اور وہ ہے (ذلک) کے اندر موجود لام کا معنی جو بُعد کی طرف اشارہ کے لیے وضع کیا گیا ہے) وہ اس امر پر دلیل ہے کہ کفار ہول اور قباحت کی انتہاء پر ہوں گے۔ ﴿ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰؔكَ ﴾ یعنی اس سبب سے، جو تیرے ہاتھوں نے کفر اور معاصی کا اکتساب کیا ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ لَ٘یْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ ﴾ اور حقیقت امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کے پہلے گناہوں کے بغیر عذاب نہیں دے گا۔ اس کا اجمالی معنی یہ ہے کہ اس کافر کو، جو ان صفات سے متصف ہے جن کا ذکر مذکورہ دو آیتوں میں گزر چکا ہے، کہا جائے گا کہ یہ عذاب اور رسوائی جس کا تو سامنا کر رہا ہے تیری افترا پردازی اور تکبر کے سبب سے ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ عادل ہے ظلم نہیں کرتا وہ مومن اور کافر، نیک اور بد کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کرتا وہ ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دیتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 9 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتمؤمنونالمؤمنون

غلطی کی اطلاع دیں

مزید