المؤمنون

مؤمنون

118 آیاتمکیپارہ 18

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 88

    قُلْ مَنۢ بِيَدِهِۦ مَلَكُوتُ كُلِّ شَىْءٍ وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

    پوچھیئے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے؟ جو پناه دیتا ہے[1] اور جس کے مقابلے میں کوئی پناه نہیں دیا جاتا[2]، اگر تم جانتے ہو تو بتلا دو؟

    حواشی

    [1] یعنی جس کی حفاظت کرنا چاہے اسے اپنی پناہ میں لے لے، کیا اسے کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ [2] یعنی جس کو وہ نقصان پہنچانا چاہے، کیا کائنات میں اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی ہے کہ وہ اسے نقصان سے بچا لے اور اللہ کے مقابلے میں اپنی پناہ میں لے لے؟۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 88 - 89 کی تفسیر

    [89,88] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے اس امر کے اقرار کی طرف منتقل ہوتا ہے جو ان سب سے زیادہ عمومیت کا حامل ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ قُ٘لْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُ٘لِّ شَیْءٍ ﴾ یعنی عالم علوی اور عالم سفلی میں جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے اور جو کچھ ہمیں نظر نہیں آتا ان سب کی بادشاہی کس کے ہاتھ میں ہے؟ (الملکوت)اقتدار اور بادشاہی کے لیے مبالغے کا صیغہ ہے۔ ﴿ وَّهُوَ یُجِیْرُ ﴾ ’’وہ شر سے پناہ دیتا ہے‘‘ اپنے بندوں کو ، ان کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے اور ان چیزوں سے ان کو محفوظ کرتا ہے جو انھیں ضرر پہنچاتی ہیں ﴿وَلَا یُجَارُ عَلَیْهِ ﴾ کسی کی قدرت میں نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کو پناہ دے سکے اور نہ کوئی اس شر اور تکلیف کو دور کر سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مقدر کر دیا ہو بلکہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے کسی کو سفارش کرنے کی بھی مجال نہیں ۔ ﴿ سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ ﴾ یعنی وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک ہے، وہی پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ ﴿قُ٘لْ﴾ جب وہ اس حقیقت کا اقرار کریں تو الزامی طور پر ان سے کہہ دیجیے! ﴿ فَاَنّٰى تُ٘سْحَرُوْنَ﴾ ’’پھر تم کہاں سے جادو کر دیے جاتے ہو؟‘‘ یعنی پھر تمھاری عقل کہاں ماری جاتی ہے کہ تم ان ہستیوں کی عبادت کرنے لگے جن کے بارے میں تم خود جانتے ہو کہ وہ کسی چیز کی مالک نہیں ، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بے بس ہیں اور تم نے مالک عظیم، قادر مطلق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والے کے لیے اخلاص کو ترک کر دیا۔ اس لیے وہ عقل جس نے اس غیر معقول کام کی طرف تمھاری راہ نمائی کی ہے، سحر زدہ ہونے کے سوا کچھ نہیں ۔ بلاشبہ شیطان نے ان کی عقل پر جادو کر دیا ہے اس نے ان کے سامنے شرک کو مزین کرکے خوبصورت بنا کر دکھایا، حقائق کو بدل ڈالا اور یوں ان کی عقلوں پر جادو کر دیا جس طرح جادوگر لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیتے ہیں ۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 88 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنورالنور

غلطی کی اطلاع دیں

مزید