النور

نور

64 آیاتمدنیپارہ 18

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 11

    إِنَّ ٱلَّذِينَ جَآءُو بِٱلْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنكُمْ ۚ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَّكُم ۖ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ لِكُلِّ ٱمْرِئٍ مِّنْهُم مَّا ٱكْتَسَبَ مِنَ ٱلْإِثْمِ ۚ وَٱلَّذِى تَوَلَّىٰ كِبْرَهُۥ مِنْهُمْ لَهُۥ عَذَابٌ عَظِيمٌ

    جو لوگ یہ بہت بڑا بہتان باندھ ﻻئے ہیں[1] یہ بھی تم میں سے ہی ایک گروه[2] ہے۔ تم اسے اپنے لئے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تو تمہارے حق میں بہتر ہے[3]۔ ہاں ان میں سے ہر ایک شخص پر اتنا گناه ہے جتنا اس نے کمایا ہے اور ان میں سے جس نے اس کے بہت بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے اس کے لئے عذاب بھی بہت ہی بڑا ہے.[4]

    حواشی

    [1] إِفْكٌ سے مراد وہ واقعہ إِفْكٌ ہے جس میں منافقین نے حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کے دامن عفت وعزت کو داغ دار کرنا چاہا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کی برائت نازل فرما کر ان کی پاک دامنی اور عفت کو واضح تر کردیا۔ مختصراً یہ واقعہ ہے کہ حکم حجاب کے بعد غزوۂ بنی المصطلق (مریسیع) سے واپسی پر نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) اور صحابہ کرام (رضي الله عنهم) نے مدینہ کے قریب ایک جگہ قیام فرمایا، صبح کو جب وہاں سے روانہ ہوئے تو حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کا ہودج بھی، جو خالی تھا، اہل قافلہ نے یہ سمجھ کر اونٹ پر رکھ دیا کہ ام المومنین (رضی الله عنها) اس کے اندر ہی ہوں گی۔ اور وہاں سے روانہ ہوگئے، در آں حالیکہ حضرت عائشہ (رضی الله عنها) اپنے ہار کی تلاش میں باہر گئی ہوئی تھیں، جب واپس آئیں تو دیکھا کہ قافلہ چلا گیا۔ تو یہ سوچ کر وہیں لیٹ رہیں کہ جب ان کو میری غیر موجودگی کا علم ہوگا تو تلاش کے لئے واپس آئیں گے۔ تھوڑی دیر بعد صفوان بن معطل سلمی (رضي الله عنه) آگئے، جن کی ذمہ داری یہی تھی کہ قافلے کی رہ جانے والی چیزیں سنبھال لیں۔ انہوں نے حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کو حکم حجاب سے پہلے دیکھا ہوا تھا۔ انہیں دیکھتے ہی انا للہ الخ پڑھا اور سمجھ گئے قافلہ غلطی سے یا بےعلمی میں حضرت ام المومنین (رضی الله عنها) کو یہیں چھوڑ کر آگے چلا گیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے انہیں اپنے اونٹ پر بٹھایا اور خود نکیل تھامے پیدل چلتے قافلے کو جاملے۔ منافقین نے جب حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کو اس طرح بعد میں اکیلے حضرت صفوان (رضي الله عنه) کےساتھ آتے دیکھا تو اس موقع کو بہت غنیمت جانا اور رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی نے کہا کہ یہ تنہائی اور علیحدگی بے سبب نہیں اور یوں انہوں نے حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کو حضرت صفوان (رضي الله عنه) کے ساتھ مطعون کردیا، دراں حالیکہ دونوں ان باتوں سے یکسر بےخبر تھے۔ بعض مخلص مسلمان بھی اس پروپیگنڈے کا شکار ہوگئے، مثلاً حضرت حسان (رضي الله عنه) ، مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش (رضي الله عنهم) (اس واقعہ کی پوری تفصیل صحیح احادیث میں موجود ہے) نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے پورے ایک مہینے تک، جب تک اللہ تعالیٰ کی طرﻑ سے براءت نازل نہیں ہوئی، سخت پریشان رہے اور حضرت عائشہ (رضي الله عنه) ا لاعلمی میں اپنی جگہ بےقرار ومضطرب۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اسی واقعے کو اختصار وجامعیت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ إِفْكٌ کے معنی ہیں کسی چیز کو الٹا دینا۔ اس واقعے میں بھی چونکہ منافقین نے معاملے کو الٹا دیا تھا یعنی حضرت عائشہ (رضی الله عنها) تو ثنا وتعریف کی مستحق تھیں، عالی نسب اور رفعت کردار کی مالک تھیں نہ کہ قذف کی۔ لیکن ظالموں نے اس پیکر عفت کو اس کے برعکس طعن اور بہتان تراشی کا ہدف بنا لیا۔ [2] ایک گروہ اور جماعت کو عصبہ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کی تقویت اور عصبیت کا باعث ہوتے ہیں۔ [3] کیونکہ اس سے ایک تو تمہیں کرب اور صدمے کے سبب ثواب عظیم ملے گا، دوسرے آسمانوں سے حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کی براءت سے ان کی عظمت شان اور ان کے خاندان کا شرف وفضل نمایاں تر ہوگیا، علاوہ ازیں اہل ایمان کے لئے اس میں عبرت و موعظت کے اور کئی پہلو ہیں۔ [4] اس سے مراد عبداللہ بن ابی منافق ہے جو اس سازش کا سرغنہ تھا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 11 کی تفسیر

    چونکہ گزشتہ سطور میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے بہتان کی برائی کا عمومی ذکر فرمایا وہ گویا اس بہتان کا مقدمہ ہے جو دنیا کی افضل ترین خاتون، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہr پر لگایا گیا۔ یہ آیات کریمہ مشہور قصۂ افک کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ بہتان کا یہ واقعہ تمام صحاح، سنن اور مسانید میں صحت کے ساتھ منقول ہے۔ اس تمام قصہ کا حاصل یہ ہے کہ نبی اکرمe کسی غزوہ میں تھے، آپ کے ساتھ آپ کی زو جۂ محترمہ حضرت عائشہ بنت ابو بکر صدیقw بھی تھیں ۔ ان کا ہار ٹوٹ کر کہیں گر گیا، وہ اس کی تلاش میں رک گئیں ، حضرت عائشہr کے ساربان آپ کے اونٹ اور ہودج سمیت لشکر کے ساتھ کوچ کر گئے اور ان کو ہودج میں حضرت عائشہr کی عدم موجودگی کا علم نہ ہوا اور لشکر کوچ کر گیا۔ حضرت عائشہr ہار کی تلاش کے بعد واپس اس جگہ پہنچیں تو لشکر موجود نہ تھا۔ حضرت عائشہr کو معلوم تھا کہ جب لشکر والے انھیں ہودج میں مفقود پائیں گے تو واپس لوٹیں گے۔ پس انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا اور صفوان بن معطل سلمیt افاضل صحابہ میں شمار ہوتے ہیں انھوں نے لشکر کے آخری لوگوں کے ساتھ رات کے آخری حصے میں پڑاؤ کیا اور سوتے رہ گئے تھے۔ انھوں نے حضرت عائشہ r کو دیکھا تو پہچان لیا حضرت صفوانt نے اپنی سواری بٹھائی اور حضرت عائشہ r کو اس پر سوار کرایا۔ انھوں نے حضرت عائشہ r سے کوئی بات کی نہ حضرت عائشہ r نے ان سے کوئی بات کی، پھر وہ حضرت عائشہ r کی سواری کی مہار پکڑے دوپہر کے وقت جبکہ لشکر بھی پڑاؤ کے لیے اتر چکا تھا، پڑاؤ میں پہنچ گئے۔ پس جب منافقین میں سے، جو اس سفر میں حضور e کے ہمراہ تھے، کسی نے حضرت صفوانt کو اس حالت میں حضرت عائشہ صدیقہr کے ساتھ آتے دیکھا تو اس نے بہتان طرازی کی خوب اشاعت کی، بات پھیل گئی، زبانیں ایک دوسرے سے اخذ کرتی چلی گئیں یہاں تک کہ بعض مخلص مومن بھی دھوکہ کھا گئے اور وہ بھی بات پھیلانے کے مرتکب ہوئے۔ رسول اللہ e پر طویل مدت تک وحی نازل نہ ہوئی بہت مدت کے بعد حضرت عائشہ r کو منافقین کے بہتان کا علم ہوا اس پر انھیں شدید صدمہ پہنچا، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عائشہ r کی براء ت میں یہ آیات کریمہ نازل فرمائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نصیحت فرمائی اور ان کو مفید وصیتوں سے سرفراز کیا۔

    [11] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ ﴾ ’’وہ لوگ جو نہایت قبیح جھوٹ گھڑ کر لائے ہیں ۔‘‘ اس سے مراد وہ بہتان ہے جو ام المومنین سیدہ عائشہ r پر لگایا گیا۔ ﴿ عُصْبَةٌ مِّؔنْكُمْ﴾ اے مومنو! بہتان طرازی کرنے والا گروہ تمھاری ہی طرف منسوب ہے۔ ان میں کچھ لوگ سچے مومن بھی ہیں مگر منافقین کے بہتان کو پھیلانے سے دھوکہ کھا گئے۔ ﴿ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّـكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّـكُمْ ﴾ ’’تم اس کو اپنے لیے برا مت سمجھو بلکہ وہ تمھارے لیے بہتر ہے۔‘‘ کیونکہ یہ ام المومنین حضرت عائشہ r کی براء ت، ان کی پاک دامنی اور ان کی تعظیم و توقیر کے اعلان کو متضمن ہے حتیٰ کہ یہ عمومی مدح تمام ازواج مطہرات کو شامل ہے۔ نیز اس میں ان آیات کا بھی بیان ہے بندے جن کے محتاج ہیں اور جن پر قیامت تک عمل ہوتا رہے گا۔ پس یہ سب کچھ بہت بڑی بھلائی ہے۔ اگر بہتان طراز منافقین نے بہتان نہ لگایا ہوتا تو یہ خیر عظیم حاصل نہ ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے سبب پیدا کر دیتا ہے، اسی لیے اس کا خطاب تمام مومنین کے لیے عام ہے نیز اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اہل ایمان کا ایک دوسرے پرعیب لگانا خود اپنے آپ پر عیب لگانے کے مترادف ہے۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں محبت و مودت، ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور باہم نرمی کا رویہ رکھنے اور اپنے مصالح میں اکٹھے ہونے کے لحاظ سے جسد واحد کی مانند ہیں اور ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے دونوں ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث ہیں ۔ پس جیسے وہ چاہتا ہے کہ کوئی شخص اس کی عزت و آبرو پر عیب نہ لگائے اسی طرح اس کو یہ بھی ناپسند ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے کسی بھائی کی عزت و ناموس پر عیب لگائے جو خود اس کے نفس کی مانند ہے۔ اگر بندہ اس مقام پر نہ پہنچے تو یہ اس کے ایمان کا نقص اور اس میں خیرخواہی کا نہ ہونا ہے۔ ﴿ لِكُ٘لِّ امْرِئٍ مِّؔنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ ﴾ ’’ان میں سے ہر آدمی کے لیے وہ گناہ ہے جو اس نے کمایا۔‘‘ یہ ان لوگوں کے لیے وعید ہے جنھوں نے حضرت عائشہ طاہرہr پر بہتان لگایا تھا اور انھیں عنقریب ان کی بہتان طرازی کی سزا دی جائے گی، چنانچہ ان میں سے کچھ لوگوں پر نبی اکرم e نے حد جاری فرمائی۔﴿ وَالَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ ﴾ ’’جس نے اس کے بڑے حصے کو سرانجام دیا ہے۔‘‘ یعنی وہ شخص جس نے بہتان کے اس واقعے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے مراد خبیث منافق، عبداللہ بن ابی بن سلول (لعَنَہُ اللّٰہُ) ہے۔﴿ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ﴾ ’’اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔‘‘ اس سے مراد ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 11 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفرقانالفرقان

غلطی کی اطلاع دیں

مزید