النور

نور

64 آیاتمدنیپارہ 18

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 26

    ٱلْخَبِيثَـٰتُ لِلْخَبِيثِينَ وَٱلْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَـٰتِ ۖ وَٱلطَّيِّبَـٰتُ لِلطَّيِّبِينَ وَٱلطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَـٰتِ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ۖ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ

    خبیﺚ عورتیں خبیﺚ مردوں کے ﻻئق ہیں اور خبیﺚ مرد خبیﺚ عورتوں کے ﻻئق ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے ﻻئق ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے ﻻئق ہیں[1] ۔ ایسے پاک لوگوں کے متعلق جو کچھ بکواس (بہتان باز) کر رہے ہیں وه ان سے بالکل بری ہیں، ان کے لئے بخشش ہے اور عزت والی روزی.[2]

    حواشی

    [1] اس کا مفہوم تو یہی بیان کیا گیا ہے جو ترجمے سے واضح ہے . اس صورت میں یہ «الزَّانِي لا يَنْكِحُ إِلا زَانِيَةً»کے ہم معنی آیت ہوگی، اور خبیثات اور خبیثون سے زانی مرد وعورت اور طیبات اور طیبون سے مراد پاک دامن عورت اور مرد ہوں گے۔ دوسرے معنی اس کے ہیں کہ ناپاک باتیں ناپاک مردوں کے لئے اور ناپاک مرد ناپاک باتوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ باتیں پاکیزہ مردوں کے لئے اور پاکیزہ مرد پاکیزہ باتوں کے لئے ہیں اور مطلب یہ ہوگا کہ ناپاک باتیں وہی مرد وعورت کرتے ہیں جو ناپاک ہیں اور پاکیزہ باتیں کرنا پاکیزہ مردوں اور عورتوں کا شیوہ ہے۔ اس میں اشارہ ہے، اس بات کی طرف کہ حضرت عائشہ (رضی الله عنها) پر ناپاکی کا الزام عائد کرنے والے ناپاک اور ان سے اس کی براءت کرنے والے پاک ہیں۔ [2] اس سے مراد جنت کی روزی ہے جو اہل ایمان کو نصیب ہوگی۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 26 کی تفسیر

    [26] ﴿ اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ۠ وَالْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ﴾ یعنی تمام ناپاک مردوزن، تمام ناپاک کلمات اور تمام ناپاک افعال ناپاک شخص کے لائق اور اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں اور تمام پاک مردوزن، پاک کلمات اور پاک افعال پاک شخص کے لائق، اسی کے مناسب حال، اسی سے مقرون اور اسی سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ یہ ایک عام اصول ہے اس سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ اس کا سب سے بڑا اور اہم اطلاق انبیائے کرام پر ہوتا ہے، انبیائے کرامo، خاص طور پر اولوالعزم انبیاء ورسلo اور ان میں بھی خاص طور پر سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیe، جو تمام مخلوق میں علی الاطلاق سب سے زیادہ طیب و طاہر ہیں ، کے لائق اور مناسب حال صرف طیبات و طاہرات عورتیں ہی ہو سکتی ہیں ۔ بنابریں اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہ r میں جرح و قدح خود رسول اللہ e میں جرح و قدح ہے۔ اس بہتان طرازی سے منافقین کا مقصد بھی یہی تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہr کے رسول اللہ e کی بیوی ہونے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اس قبیح بہتان سے پاک ہیں ۔ تب ان کے بارے میں کیسے قبیح بات کہی جا سکتی ہے جبکہ ان کی اتنی بڑی شان ہے؟ وہ عورتوں میں ’’صدیقہ‘‘ کے مرتبے پر فائز ہیں ، عورتوں میں سب سے افضل، سب سے زیادہ عالمہ سب سے زیادہ طیبہ وطاہرہ اور رب العالمین کے رسول (e)کی محبوبہ ہیں ۔ صرف حضرت عائشہ r تھیں کہ آپ ان کے لحاف میں ہوتے تو آپ پر وحی نازل ہوتی دیگر ازواج مطہرات میں سے کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہ تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس طرح تصریح فرمائی کہ کسی باطل پسند کے لیے کسی بات اور کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی، چنانچہ فرمایا:﴿اُولٰٓىِٕكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ﴾ ’’یہ لوگ پاک ہیں ان باتوں سے جو لوگ (ان کی بابت) کہتے ہیں ۔‘‘ اصولاً یہ اشارہ حضرت عائشہ صدیقہr کی طرف ہے اور تبعاً دیگر مومن، پاک دامن اور بھولی بھالی بے خبر عورتوں کی طرف ہے﴿ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ ﴾ ’’ان کے لیے بخشش ہے۔‘‘ جو سارے گناہوں پر حاوی ہو گی ﴿ وَّرِزْقٌ كَرِیْمٌ ﴾ ’’اور باعزت رزق‘‘ جو جنت میں رب کریم کی طرف سے صادر ہو گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 26 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفرقانالفرقان

غلطی کی اطلاع دیں

مزید