النور

نور

64 آیاتمدنیپارہ 18

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 27

    يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَدْخُلُوا۟ بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا۟ وَتُسَلِّمُوا۟ عَلَىٰٓ أَهْلِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

    اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو[1] ، یہی تمہارے لئے سراسر بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو.[2]

    حواشی

    [1] گزشتہ آیات میں زنا اور قذف اور ان کی حدوں کا بیان گزرا، اب اللہ تعالیٰ گھروں میں داخل ہونے کے آداب بیان فرما رہا ہےتاکہ مرد وعورت کے درمیان اختلاط نہ ہو جو عام طور پر زنا یا قذف کا سبب بنتا ہے۔ اسْتِينَاسٌ کے معنی ہیں، معلوم کرنا، یعنی جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہوجائے کہ اندر کون ہے اور اس نے تمہیں اندر داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے، اس وقت تک داخل نہ ہو۔ بعض نے تَسْتَأْنِسُوا کے معنی تَسْتَأْذِنُوا کے کئے ہیں، جیسا کہ ترجمے سے واضح ہے، آیت میں داخل ہونے کی اجازت طلب کرنے کا ذکر پہلے اور سلام کرنے کا ذکر بعد میں ہے۔ لیکن حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) پہلے سلام کرتے اور پھر داخل ہونے کی اجازت طلب کرتے۔ اسی طرح آپ (صلى الله عليه وسلم) کا یہ معمول بھی تھا کہ تین مرتبہ آپ (صلى الله عليه وسلم) اجازت طلب فرماتے، اگر کوئی جواب نہیں آتا تو آپ (صلى الله عليه وسلم) واپس لوٹ آتے۔ اور یہ بھی آپ (صلى الله عليه وسلم) کی عادت مبارکہ تھی کہ اجازت طلبی کے وقت آپ (صلى الله عليه وسلم) دروازے کے دائیں یا بائیں کھڑے ہوتے، تاکہ ایک دم سامنا نہ ہو جس میں بےپردگی کا امکان رہتا ہے (ملاحظہ ہو صحيح بخاري، كتاب الاستئذان باب التسليم والاستئذان ثلاثا- مسند أحمد 3 / 138 أبو داود، كتاب الأدب، باب كم مرة يسلم الرجل في الاستئذان) اسی طرح آپ (صلى الله عليه وسلم) نے دروازے پر کھڑے ہو کر اندر جھانکنے سے بھی نہایت سختی سے منع فرمایا ہے حتیٰ کہ اگر کسی شخص نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دی تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ اس پر کوئی گناہ نہیں۔ (البخاري، كتاب الديات، باب من اطلع في بيت قوم ففقئوا عينه فلا دية له- مسلم، كتاب الآداب، باب تحريم النظر في بيت غيره) آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اس بات کو بھی ناپسند فرمایا کہ جب اندر سے صاحب بیت پوچھے، کون ہے؟ تو اس کے جواب میں میں، میں کہا جائے، اس کا مطلب یہ ہے کہ نام لے کر اپنا تعارف کرائے۔ (صحيح بخاري، كتاب الاستئذان باب إذا قال من ذا؟ قال أنا- ومسلم، كتاب الآداب باب كراهة قول المستأذن أنا إذا قيل من هذا؟ وأبو داود، كتاب الأدب)۔ [2] یعنی عمل کرو، مطلب یہ ہے کہ اجازت طلبی اور سلام کرنے کے بعد گھر کے اندر داخل ہونا، دونوں کے لئے اچانک داخل ہونے سے بہتر ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 27 کی تفسیر

    [27] اللہ باری تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ وہ اپنے گھر کے سوا دوسرے گھروں میں اجازت لیے بغیر داخل نہ ہوا کریں کیونکہ اس میں متعدد مفاسد ہیں: (۱) جس کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ e نے فرمایا: ’’اجازت طلبی نظر پڑنے سے بچاؤ ہی کے لیے مقرر کی گئی ہے۔‘‘(صحیح البخاري، الاستئذان، باب الاستئذان من اجل البصر، ح:6241 و صحیح مسلم، الآداب، باب تحریم النظر فی بیت غیرہ، ح:2156) اجازت طلبی میں خلل واقع ہو جانے سے گھر کے اندر ستر پر نظر پڑتی ہے۔ کیونکہ گھر انسان کے لیے باہر کے لوگوں سے ستر اور پردہ ہے جیسے کپڑا جسم کو چھپاتا ہے۔ (۲) اجازت طلب كيے بغیر گھر میں داخل ہونا، داخل ہونے والے کے بارے میں شک کا موجب ہے اور وہ برائی یعنی چوری وغیرہ سے متہم ہوتا ہے کیونکہ گھر میں خفیہ طور پر داخل ہونا شر پر دلالت کرتا ہے… اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں داخل ہونے سے منع کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اجازت طلب نہ کر لیں ۔ یہاں (استئذان) کو (استئناس) اس لیے کہا گیا ہے کہ اس سے انس حاصل ہوتا ہے اور اس کے معدوم ہونے سے وحشت حاصل ہوتی ہے۔﴿ وَتُ٘سَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا ﴾ ’’اور گھر میں رہنے والوں کو سلام کرو۔‘‘ حدیث شریف میں اس کا یہ طریقہ بیان ہوا ہے کہ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے کہو : ’’ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ! اور پھر پوچھو، کیا میں اندر آجاؤں ؟‘‘(سنن ابی داود، الأدب، باب کیف الاستئذان، ح:5177) ﴿ذٰلِكُمْ ﴾ یعنی یہ مذکورہ اجازت طلبی﴿ خَیْرٌ لَّـكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّـرُوْنَ ﴾ ’’تمھارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔‘‘ کیونکہ اجازت طلبی متعدد مصالح پر مشتمل ہے اور اس کا شمار ایسے مکارم اخلاق میں ہوتا ہے جن کو اپنانا واجب ہے۔ پس اگر گھر میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جائے تو اجازت طلب کرنے والے کو داخل ہونا چاہیے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 27 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفرقانالفرقان

غلطی کی اطلاع دیں

مزید