النور

نور

64 آیاتمدنیپارہ 18

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 3

    ٱلزَّانِى لَا يَنكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَٱلزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَآ إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ

    زانی مرد بجز زانیہ یا مشرکہ عورت کے اور سے نکاح نہیں کرتا اور زناکار عورت بھی بجز زانی یا مشرک مرد کے اور سے نکاح نہیں کرتی اور ایمان والوں پر یہ حرام کردیا گیا.[1]

    حواشی

    [1] اس کے مفہوم میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ (1) بعض کہتے ہیں کہ یہ غالب احوال کے اعتبار سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ عام طور پر بدکار قسم کے لوگ نکاح کے لئے اپنے ہی جیسے لوگوں کی طرف رجوع کرے ہیں، چنانچہ زانیوں کے اکثریت زانیوں کے ساتھ ہی نکاح کرنا پسند کرتی ہے اور مقصود اس سے اہل ایمان کو متنبہ کرنا ہے کہ جس طرح زنا ایک نہایت قبیح اور بڑا گناہ ہے، اسی طرح زناکاروں کے ساتھ شادی بیاہ کے تعلقات قائم کرنا بھی منع اور حرام ہے۔ امام شوکانی نے اس مفہوم کو راجح قرار دیا ہے اور احادیث میں اس کا جو سبب نزول بیان کیا گیا ہے اس سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ بعض صحابہ (رضي الله عنهم) نے بدکار عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت طلب کی، جس پر یہ آیت نازل ہوئی، یعنی انہیں ایسا کرنے سے روک دیا گیا، اسی سے استدلال کرتے ہوئے علماء نے کہا ہے کہ ایک شخص نے جس عورت سے یا عورت نے جس مرد سے بدکاری کی ہو، ان کا آپس میں نکاح جائز نہیں، ہاں اگر وہ خالص توبہ کرلیں تو پھر ان کے درمیان نکاح جائز ہے۔ (تفسیر ابن کثیر) (2) بعض کہتے ہیں کہ یہاں نکاح، سے مراد معروف نکاح نہیں ہے بلکہ یہ جماع کے معنی میں ہے اور مقصد زنا کی شناعت و قباحت بیان کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بدکار مرد اپنی جنسی خواہش کی ناجائز طریقے سے تسکین کے لئے بدکار عورت کی طرف اور اسی طرح بدکار عورت بدکار مرد کی طرف رجوع کرتی ہے، مومنوں کے لئے ایساکرنا یعنی زناکاری حرام ہے۔ اور مشرک مرد و عورت کا ذکر اس لئے کردیا کہ شرک بھی زنا سے ملتا جلتا گناہ ہے، جس طرح مشرک اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کے در پر جھکتا ہے، اسی طرح ایک زناکار اپنی بیوی کو چھوڑ کر یا بیوی اپنے خاوند کو چھوڑ کر غیروں سے اپنا منہ کالا کراتی ہے۔ یوں مشرک اور زانی کے درمیان ایک عجیب معنوی مناسبت پائی جاتی ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 3 کی تفسیر

    [3] اس آیت کریمہ میں زنا کی رذالت اور قباحت کا بیان ہے کہ یہ فعل بد، فاعل اور اس کے ساتھ میل جول رکھنے والے لوگوں کی عزت پر ایسا دھبہ لگا دیتا ہے جو دیگر گناہوں سے نہیں لگتا۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ زانی مرد صرف زنا کار عورت ہی سے نکاح کرے۔ اس کا حال ایسی ہی عورت کے حال سے مناسبت رکھتا ہے یا مشرک عورت اس کے مناسب حال ہے جو یوم آخرت اور جزا و سزا پر ایمان رکھتی ہے نہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا التزام کرتی ہے۔ اسی طرح زانیہ عورت سے صرف زانی مرد یا مشرک ہی نکاح کرے۔ ﴿ وَحُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ نے اسے مومنوں پر حرام ٹھہرا دیا ہے‘‘ یعنی یہ کہ وہ کسی عفت مآب عورت کا زنا کار مرد کے ساتھ نکاح کریں یا عفت مآب مرد کسی زنا کار عورت کو اپنے نکاح میں لائے۔ اس آیت کریمہ کا معنی یہ ہے کہ وہ مرد یا عورت جو زنا میں ملوث ہے اور اس نے اس بدکاری سے توبہ نہیں کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحریم کے باوجود، اس کے ساتھ نکاح کرنے والا، دو میں سے ایک امر سے خالی نہیں ۔یا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا التزام نہیں کرتا اور یہ صرف مشرک شخص کا وتیرہ ہے یا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولeکے حکم کا التزام کرتا ہے اور زنا کار کے زنا کا علم رکھنے کے باوجود، اس کے ساتھ عفت مآب عورت کے نکاح کا اقدام کرتا ہے تو ایسا نکاح زنا ہے اور نکاح کرنے والا زنا کا مرتکب ہے۔ اگر وہ سچا مومن ہوتا تو کبھی بھی یہ کام نہ کرتا۔ یہ آیت کریمہ زانیہ عورت کے ساتھ نکاح کی تحریم پر صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہے جب تک کہ وہ توبہ نہ کرے۔ اسی طرح زانی کے ساتھ نکاح کی تحریم پر دلیل ہے کیونکہ میاں بیوی کا ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سب سے بڑی مقارنت ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿ اُحْشُ٘رُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ ﴾ (الصّٰفّٰت:37؍22) ’’وہ لوگ جو ظلم کرتے تھے، ان کو اور ان کے ساتھیوں کو اکٹھا کرو۔‘‘ یعنی ان کے جلیسوں کو۔ چونکہ اس میں بہت بڑا شر ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس نکاح کو حرام ٹھہرا دیا ہے۔ اس سے غیرت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ خاوند کے ساتھ ایسی اولاد کا الحاق ہوتا ہے جو درحقیقت اس کی نہیں ۔ نیز وہ دوسری عورتوں کے ساتھ مشغول ہونے کے سبب عفت سے محروم رہتا ہے۔ یہ آیت کریمہ صریحاً دلالت کرتی ہے کہ زنا کار مومن نہیں ہوتا جیسا کہ نبی کریم e نے فرمایا ’’جب زانی زنا کا ارتکاب کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا …۔، ،(صحیح البخاري، المظالم، باب النہي بغیر اذن صاحبہ، ح: 2475 و صحیح مسلم، الإیمان، باب بیان نقصان الإیمان بالمعاصی…، ح:100) پس وہ اگرچہ مشرک بھی نہیں ہوتا تاہم وہ اسم مدح سے موسوم نہیں ہوتا جو کہ ایمان مطلق ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 3 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفرقانالفرقان

غلطی کی اطلاع دیں

مزید