اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا[1] ، اس کے نور کی مثال مثل ایک طاق کے ہے جس میں چراغ ہو اور چراغ شیشہ کی قندیل میں ہو اور شیشہ مثل چمکتے ہوئے روشن ستارے کے ہو وه چراغ ایک بابرکت درخت زیتون کے تیل سے جلایا جاتا ہو جو درخت نہ مشرقی ہے نہ مغربی خود وه تیل قریب ہے کہ آپ ہی روشنی دینے لگے اگرچہ اسے آگ نہ بھی چھوئے، نور پر نور ہے[2]، اللہ تعالیٰ اپنے نور کی طرف رہنمائی کرتا ہے جسے چاہے[3]، لوگوں (کے سمجھانے) کو یہ مثالیں اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے[4]، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کے حال سے بخوبی واقف ہے.
حواشی
[1] یعنی اگر اللہ نہ ہوتا تو نہ آسمان میں نور ہوتا نہ زمین میں، نہ آسمان وزمین میں کسی کو ہدایت ہی نصیب ہوتی۔ پس وہ اللہ تعالیٰ ہی آسمان وزمین کو روشن کرنے والا ہے اس کی کتاب نور ہے، اس کا رسول (بہ حیثیت صفات کے) نور ہے۔ یعنی ان دونوں کے ذریعے سے زندگی کی تاریکیوں میں رہنمائی اور روشنی حاصل کی جاتی ہے، جس طرح چراغ اور بلب سے انسان روشنی حاصل کرتا ہے۔ حدیث میں بھی اللہ کا نور ہونا ثابت ہے۔ «وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ» (البخاري، باب التهجد بالليل، ومسلم كتاب صلاة المسافرين باب الدعاء في صلاة الليل) پس اللہ، اس کی ذات نور ہے، اس کا حجاب نور ہے اور ہر ظاہری اور معنوی نور کا خالق، اس کا عطا کرنے والا اور اس کی طرف ہدایت کرنے والا صرف ایک اللہ ہے (ایسرالتفاسیر)۔
[2] یعنی جس طرح ایک طاق میں ایسا چراغ ہو، جو شیشے کی قندیل میں ہو، اس میں ایک بابرکت درخت کا ایسا خاص تیل ڈالا گیا ہو کہ وہ آگ (دیا سلائی) دکھائے بغیر ہی بذات خود روشن ہوجانے کے قریب ہو۔ یوں یہ ساری روشنیاں ایک طاق میں مجتمع ہوگئیں اور وہ بقعہ نور بن گیا۔ اسی طرح اللہ کے نازل کردہ دلائل وبراہین کی حیثیت ہے کہ وہ واضح بھی ہیں اور ایک سے ایک بڑھ کر بھی یعنی نور علیٰ نور جو مشرقی ہے، نہ مغربی کا مطلب ہے، وہ درخت ایسے کھلے میدان اور صحرا میں ہے کہ اس پر دھوپ صرف سورج کے چڑھنے کے وقت یا غروب کے وقت ہی نہیں پڑتی، بلکہ سارا دن وہ دھوپ میں رہتا ہے اور ایسے درخت کا پھل بہت عمدہ ہوتا ہے اور مراد اس سے زیتون کا درخت ہے جس کا پھل اور تیل سالن کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور چراغ میں تیل کے طور پر بھی۔
[3] نُورٌ سے مراد ایمان و اسلام ہے، یعنی اللہ تعالیٰ جن کے اندر ایمان کی رغبت اور اس کی طلب دیکھتا ہے، ان کی اس نور کی طرف رہنمائی فرما دیتا ہے، جس سے دین و دنیا کی سعادتوں کے دروازے ان کے لئے کھل جاتے ہیں۔
[4] جس طرح اللہ نے یہ مثال بیان فرمائی، جس میں اس نے ایمان کو اور اپنے مومن بندے کے دل میں اس کے راسخ ہونے اور بندوں کے احوال قلوب کا علم رکھنے کو واضح فرمایا کہ کون ہدایت کا اہل ہے اور کون نہیں۔
تفسیر سعدی (اردو)
آیات 35 کی تفسیر
[35] ﴿ اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ﴾ ’’اللہ تعالیٰ (حسی اور معنوی طور پر) آسمانوں اور زمین کا نور ہے‘‘ اللہ تعالیٰ بذات خود نور ہے اس کا حجاب نور ہے۔ اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرۂ مبارک کے انوار و جلال حدنگاہ تک تمام مخلوق کو جلا کر راکھ کر دیں ۔ اس کے نور سے عرش، کرسی، سورج، چاند اور جنت منور ہیں … اسی طرح معنوی نور کا منبع بھی اللہ تعالیٰ ہے اس کی کتاب نور ہے، اس کی شریعت نور ہے، ایمان نور ہے، اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کے مومن بندوں کے دلوں میں موجود معرفت الٰہی نور ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا نور نہ ہو تو گمراہیوں کے گھٹاٹوپ اندھیرے چھا جائیں ، لہٰذا ہر وہ مقام جہاں اللہ تعالیٰ کا نور نہیں ہے وہ اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔
﴿ مَثَلُ نُوْرِهٖ ﴾ ’’اس کے نور کی مثال‘‘ یعنی وہ نور جس کی طرف اللہ تعالیٰ راہ نمائی فرماتا ہے اور وہ اہل ایمان کے دلوں میں ایمان اور قرآن کا نور ہے۔ ﴿كَمِشْكٰوةٍ ﴾ ’’ایک طاق کی مانند ہے‘‘ ﴿ فِیْهَا مِصْبَاحٌ﴾ ’’جس میں چراغ ہو۔‘‘ کیونکہ طاق چراغ کی روشنی کو جمع کر دیتا ہے اور اسے بکھرنے نہیں دیتا ﴿اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ﴾ ’’چراغ شیشے کے فانوس میں رکھا ہوا ہو اور وہ فانوس‘‘ اپنی صفائی اور خوبصورتی کی وجہ سے یوں لگے ﴿ كَاَنَّهَا كَوْؔكَبٌ دُرِّیٌّ﴾ ’’جیسے وہ چمکتا ہوا ستارہ ہو‘‘ یعنی وہ موتی کی مانند چمکتا ہو۔ ﴿ یُّوْقَدُ ﴾ ’’جلایا جائے‘‘ یعنی وہ چراغ جو اس چمک دار فانوس کے اندر ہے ﴿ مِنْ شَجَرَةٍ مُّؔبٰرَؔكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ ﴾ یعنی وہ زیتون کے تیل سے روشن کیا جاتا ہے جس کا شعلہ سب سے زیادہ روشن ہوتا ہے۔
﴿ لَّا شَرْقِیَّةٍ ﴾ یعنی وہ فقط مشرقی جانب نہیں کہ دن کے آخری حصے میں اس کو سورج کی روشنی نہ پہنچتی ہو ﴿ وَّلَا غَ٘رْبِیَّةٍ﴾ اور وہ فقط مغربی جانب بھی نہیں کہ دن کے پہلے حصے میں اس کو سورج کی روشنی حاصل نہ ہوتی ہو۔ جب یہ دونوں امور نہیں تو وہ زمین کے درمیان میں اگا ہوا ہے۔ جیسے ملک شام کا زیتون، جسے صبح و شام سورج کی روشنی حاصل ہوتی ہے اس وجہ سے وہ نہایت عمدہ ہوتا ہے اور اس کا تیل انتہائی صاف ہوتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ یَّكَادُ زَیْتُهَا﴾ ’’قریب ہے کہ اس کا تیل۔‘‘ یعنی انتہائی صاف ہونے کی وجہ سے﴿ یُضِیْٓءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌؔ﴾ ’’آپ ہی روشنی دینے لگے، اگرچہ اسے آگ بھی نہ چھوئے۔‘‘ اور جب اسے آگ چھوئے تو بہت زیادہ روشنی ہو ﴿ نُوْرٌؔ عَلٰى نُوْرٍ ﴾ ’’روشنی پر روشنی۔‘‘ یعنی آگ کی روشنی اور زیتون کے تیل کی روشنی۔
یہ مثال جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے اور اسے مومن کے احوال کے ساتھ تطبیق دی ہے نیز یہ کہ اس کا قلب اللہ تعالیٰ کے نور سے منور ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی فطرت جس پر اسے پیدا کیا گیا ہے وہ زیتون کے پاک صاف تیل کی مانند ہے۔ پس اس کی فطرت صاف اور تعلیمات الٰہیہ اور اعمال مشروعہ کے لیے مستعد ہے۔ جب اس کے پاس علم و ایمان پہنچتا ہے تو یہ نور اس کے قلب میں روشن ہو جاتا ہے جیسے آگ چراغ کی بتی کو روشن کر دیتی ہے۔ اس کا قلب برے ارادوں اور فہم کی خرابی سے پاک ہوتا ہے۔ جب قلب میں ایمان جاگزیں ہوتا ہے تو تمام کدورتوں سے پاک ہونے کی وجہ سے اس نور سے جگمگا اٹھتا ہے اور قلب کی یہ صفائی، موتی کی طرح چمکتے ہوئے فانوس کی مانند ہے۔ پس قلب میں نور فطرت، نور ایمان، نورعلم اور معرفت کی صفائی تمام اسباب مجتمع ہو جاتے ہیں اور یوں قلب میں روشنی پر روشنی بڑھتی چلی جاتی ہے اور چونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کا نور ہے اور ہر کسی میں اس نور کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی، اس لیے فرمایا:﴿ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ﴾ ’’رہنمائی کرتا ہے اللہ اپنے نور کے لیے جس کی چاہتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے نور کے لیے صرف اسی کی راہ نمائی کرتا ہے جس کے متعلق اسے علم ہے کہ وہ پاک اور طیب و طاہر ہے اور یہ نور اس کی معیت میں مزید بڑھے گا۔﴿ وَیَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے‘‘ تاکہ وہ اس سے عقل و فہم حاصل کریں یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا لطف و احسان ہے، نیز یہ مثالیں اس لیے بھی بیان کی گئی ہیں تاکہ باطل سے حق واضح ہو جائے کیونکہ ضرب الامثال معانی ٔمعقولہ کو محسوسات کے قریب کر دیتی ہیں اور بندوں کو واضح طور پر ان کا علم حاصل ہو جاتا ہے۔
﴿ وَاللّٰهُ بِكُ٘لِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ﴾ پس اس کا علم تمام اشیاء کا احاطہ كيے ہوئے ہے اس لیے تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ضرب الامثال اس ہستی کی بیان کی ہوئی ہیں جو تمام اشیاء کے حقائق اور ان کی تفاصیل کو جانتی ہے اور وہ یہ بھی جانتی ہے کہ ان میں بندوں کے لیے مصلحت ہے۔ پس تمھیں ان پر اعتراض اور ان کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے بلکہ تمھیں ان میں تدبر اور غوروفکر کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔