النور

نور

64 آیاتمدنیپارہ 18

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 45

    وَٱللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّن مَّآءٍ ۖ فَمِنْهُم مَّن يَمْشِى عَلَىٰ بَطْنِهِۦ وَمِنْهُم مَّن يَمْشِى عَلَىٰ رِجْلَيْنِ وَمِنْهُم مَّن يَمْشِى عَلَىٰٓ أَرْبَعٍ ۚ يَخْلُقُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ

    تمام کے تمام چلنے پھرنے والے جانداروں کو اللہ تعالیٰ ہی نے پانی سے پیدا کیا ہےان میں سے بعض تو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں[1] ، بعض دو پاؤں پر چلتے ہیں[2]۔ بعض چار پاؤں پر چلتے ہیں[3]، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے[4]۔ بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے.

    حواشی

    [1] جس طرح سانپ، مچھلی اور دیگر حشرات الارض کیڑے مکوڑے ہیں۔ [2] جیسے انسان اور پرند ہیں۔ [3] جیسے تمام چوپائے اور دیگر حیوانات ہیں۔ [4] یہ اشارہ اس بات کی طرف کہ بعض حیوانات ایسے بھی ہیں جو چار سے بھی زیادہ پاؤں رکھتے ہیں، جیسے کیکڑا، مکڑی اور بہت سے زمینی کیڑے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 45 کی تفسیر

    [45] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے روئے زمین کے تمام جانداروں کو… جیسا کہ وہ مشاہدہ کرتے ہیں ﴿ مِنْ مَّآءٍ ﴾ ’’پانی سے‘‘ تخلیق فرمایا، یعنی تمام جان داروں کا مادۂ تخلیق پانی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُ٘لَّ شَیْءٍ حَیٍّ﴾ (الانبیاء:21؍30) ’’اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی ہے۔‘‘ پس وہ حیوانات جن کا سلسلۂ تناسل جاری ہے، ان کا مادۂ تخلیق نطفہ کا پانی ہے جب نر مادہ کو حاملہ کرتا ہے تو اسی آب نطفہ سے تخلیق ہوتی ہے اور وہ حیوانات جو زمین سے پیدا ہوتے ہیں وہ صرف پانی کی رطوبتوں سے پیدا ہوتے ہیں ، مثلاً:حشرات الارض۔ ان میں نطفہ وغیرہ موجود نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ آب نطفہ کے بغیر پیدا ہوتے ہیں ۔ پس مادۂ تخلیق ایک ہے مگر اس سے پیدا ہونے والی مخلوق بہت سے پہلوؤں سے (ایک دوسرے سے) مختلف ہوتی ہے۔ ﴿فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ ﴾ ’’پس ان میں سے کوئی پیٹ کے بل چلتا ہے‘‘ جیسے سانپ وغیرہ﴿وَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْ٘نِ ﴾ ’’اور کوئی دو ٹانگوں پر چلتا ہے ‘‘ جیسے آدمی اور بہت سے پرندے﴿وَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ ﴾ ’’اور بعض ان میں سے چار ٹانگوں پر چلتے ہیں ۔‘‘ جیسے چوپائے اور مویشی وغیرہ۔ اصل ایک کے باوجود ان میں تنوع دلالت کرتا ہے کہ اس کی قدرت سب کو شامل اور اس کی مشیت سب میں نافذ ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ﴾ ’’اللہ جو چاہتا ہے (اور جیسی چاہتا ہے اپنی مخلوق) پیدا کرتا ہے‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُ٘لِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ مثلاً: اللہ تعالیٰ زمین پر پانی نازل کرتا ہے، یعنی پانی ایک ہی ہے۔ ماں ، یعنی زمین ایک ہے مگر اس زمین سے جنم لینے والی اولاد مختلف اوصاف کی حامل اور متنوع ہے۔ فرمایا: ﴿ وَفِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰؔوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَیْرُ صِنْوَانٍ یُّ٘سْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُ٘لِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ﴾ (الرعد:13؍4) ’’اور زمین میں الگ الگ خطے ہیں جو ساتھ ساتھ پائے جاتے ہیں ، انگور کے باغات ہیں ، کھیتیاں ہیں ، نخلستان ہیں ان میں سے کچھ ایک ہی جڑ سے دو درخت نکلے ہوئے ہیں ، کچھ اکہرے ہیں ، جن کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے مگر مزے میں ہم ان کو ایک دوسرے پر فضیلت دے دیتے ہیں ۔ بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں ۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 45 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفرقانالفرقان

غلطی کی اطلاع دیں

مزید