النور

نور

64 آیاتمدنیپارہ 18

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 52

    وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَخْشَ ٱللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَآئِزُونَ

    جو بھی اللہ تعالیٰ کی، اس کے رسول کی فرماں برداری کریں، خوف الٰہی رکھیں اور اس کے عذابوں سے ڈرتے رہیں، وہی نجات پانے والے ہیں.[1]

    حواشی

    [1] یعنی فلاح و کامیابی کے مستحق صرف وہ لوگ ہوں گے جو اپنے تمام معاملات میں اللہ اور رسول کے فیصلے کو خوش دلی سے قبول کرتے اور ان ہی کی اطاعت کرتے ہیں اور خشیت الٰہی اور تقویٰ سے متصف ہیں، نہ کہ دوسرے لوگ، جو ان صفات سے محروم ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 52 کی تفسیر

    [52] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اطاعت، خاص طور پر حکم شریعت کی اطاعت کی فضیلت بیان کی تو تمام احوال میں اطاعت کی فضیلت کا عمومی تذکرہ کیا اور فرمایا:﴿ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ﴾ ’’اور جو اطاعت کرتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی۔‘‘ یعنی اللہ اور اس کے رسول کی خبر کی تصدیق اور ان کے حکم کی تعمیل کرتا ہے﴿ وَیَخْشَ اللّٰهَ ﴾ اور اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈرتا ہے کہ اس کا یہ خوف معرفت سے مقرون ہوتا ہے، بنابریں وہ منہیات کو ترک کر دیتا ہے اور خواہشات نفس کی تعمیل سے باز آجاتا ہے، اس لیے فرمایا: ﴿وَیَتَّقْهِ ﴾ اور تقویٰ اختیار کرتے ہوئے محظورات کو چھوڑ دیتا ہے کیونکہ تقویٰ سے، علی الاطلاق، مراد ہے مامورات کی تعمیل کرنا اور منہیات کو چھوڑ دینا اور جب یہ نیکی اور اطاعت سے مقرون ہو… جیسا کہ اس مقام پر ہے… تب اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کو چھوڑ کر اس کے عذاب سے بچنا ہے۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ ﴾ یہی لوگ ، جو اطاعت الٰہی، اطاعت رسول، تقوائے الٰہی اور خشیت الٰہی کے جامع ہیں ﴿ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ۠ ﴾ ’’کامیاب ہیں ۔‘‘ اسباب عذاب کو ترک کر کے، اس سے نجات حاصل کرکے، ثواب کے اسباب اختیار کر کے اور اس کی منزل تک پہنچ کر وہ کامیاب ہوئے۔ پس کامیابی انھی کے لیے مخصوص ہے۔ جو کوئی ان لوگوں کے اوصاف سے متصف نہیں تو وہ ان اوصاف حمیدہ میں کوتاہی کے مطابق اس فوزوفلاح سے محروم ہو گا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول(e) کے مشترک حق کے بیان پر مشتمل ہے۔ رسول کے حق سے مراد اطاعت رسول ہے جو ایمان کو مستلزم ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص حق سے مراد تقویٰ اور خشیت الٰہی ہے اور تیسرا حق جو صرف رسولeکے ساتھ مختص ہے، وہ ہے آپ کی مدد و توقیر کرنا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان حقوق ثلاثہ کو‘‘ سورۃ الفتح‘‘ میں یوں جمع فرمایا ہے: ﴿ لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ٘ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّ٘رُوْهُ١ؕ وَتُسَبِّحُوْهُ بُؔكْرَةً وَّاَصِیْلًا﴾ (الفتح:48؍9) ’’تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اس کی مدد اور توقیر کرو اور صبح و شام اس (اللہ تعالیٰ) کی تسبیح بیان کرو۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 52 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتفرقانالفرقان

غلطی کی اطلاع دیں

مزید