الشعراء

شعراء

227 آیاتمکیپارہ 19

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 100

    فَمَا لَنَا مِن شَـٰفِعِينَ

    اب تو ہمارا کوئی سفارشی بھی نہیں.

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 96 - 104 کی تفسیر

    [104-96] ﴿ قَالُوْا﴾ یعنی ابلیس کے یہ گمراہ لشکر اپنے بتوں اور معبودوں سے کہیں گے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے: ﴿ وَهُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ ۰۰ تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَ٘فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ ۰۰ اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴾ ’’اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں تھے، جبکہ تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے۔‘‘ یعنی عبادت، محبت، خوف اور رجا میں ہم تمھیں رب کائنات کے برابر ٹھہرایا کرتے تھے اور تمھیں بھی ویسے ہی پکارتے تھے۔ جیسے رب تعالیٰ کو پکارتے تھے تب ان پر ان کی گمراہی عیاں ہو جائے گی اور اپنی سزا میں اللہ تعالیٰ کے عدل کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ سزا بر محل ہے۔ وہ تخلیق میں نہیں بلکہ صرف عبادت میں اپنے معبودوں کو رب کائنات کا ہم پلہ قرار دیتے تھے اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے: ﴿ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ﴾ وہ اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا رب ہے جن میں ان کے بت اور معبود بھی شامل ہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ ﴾ ’’اور ہم کو ان گناہ گاروں ہی نے گمراہ کیا تھا۔‘‘ یعنی رشد وہدایت کے راستے سے ہٹا کر فسق و فجور اور گمراہی کے راستے میں صرف انھی مجرموں نے چلایا۔ مجرموں سے مراد وہ ائمۂ ضلالت ہیں جو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿ فَمَا لَنَا ﴾ ’’پس نہیں ہمارے واسطے‘‘ یعنی اس وقت ﴿ مِنْ شَافِعِیْنَ﴾ ’’کوئی سفارش کرنے والا۔‘‘ یعنی جو ہماری سفارش کر کے ہمیں اس کے عذاب سے بچا لے ﴿ وَلَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ ﴾ ’’اور نہ گرم جوش دوست۔‘‘ یعنی نہ کوئی قریبی اور خالص دوست ہے جو ہمیں ادنی سا فائدہ پہنچا سکے جیسا کہ دنیا میں ہوا کرتا تھا، چنانچہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور اپنے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔ وہ تمنا کریں گے کہ کاش انھیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ وہ نیک کام کریں ۔ وہ کہیں گے: ﴿ فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً ﴾ ’’اگر کاش کہ ہمیں ایک مرتبہ پھر جانا ملتا۔‘‘ یعنی دنیا کی طرف پلٹنا اور اس کی طرف لوٹنا ﴿ فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴾ ’’تو ہم مومنوں میں سے ہوجاتے۔‘‘ تاکہ ہم عذاب سے بچ جائیں اور ثواب کے مستحق بن جائیں ۔ مگر یہ بہت بعید ہے اور ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو گی ان کے قید خانے کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ ﴿ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ ﴾ ان تمام امور میں جن کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے: ﴿ لَاٰیَةً﴾ ’’(تمھارے لیے) نشانی ہے‘‘ ﴿ وَمَا كَانَ اَ كْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﴾ ’’(یعنی ان نشانیوں کے نازل ہونے کے باوجود) ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 100 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنملالنمل

غلطی کی اطلاع دیں

مزید