الشعراء

شعراء

227 آیاتمکیپارہ 19

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 124

    إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودٌ أَلَا تَتَّقُونَ

    جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود[1] نے کہا کہ کیا تم ڈرتے نہیں؟

    حواشی

    [1] ہود (عليه السلام) کو بھی عاد کا بھائی اسی لیےکہا گیا ہےکہ ہر نبی اسی قوم کا ایک فرد ہوتا تھا، جس کی طرف سے اسےمبعوث کیاجاتا تھا اور اسی اعتبار سےانہیں اس قوم کا بھائی قرار دیاگیا ہے، جیسا کہ آگے بھی آئے گا اور انبیا و رسل کی یہ (بشریت) بھی ان کی قوموں کے ایمان لانے میں رکاوٹ بنی رہی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ نبی کو بشر نہیں، مافوق البشر ہونا چاہیے۔ آج بھی اس مسلمہ حقیقت سے بے خبر لوگ پیغمبر اسلام حضرت نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو مافوق البشر باور کرانےپر تلے رہتے ہیں۔ حالانکہ وہ بھی خاندان قریش کے ایک فرد تھے جن کی طرف اولاً ان کو پیغمبر بناکر بھیجا گیا تھا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 123 - 127 کی تفسیر

    [127-123] یعنی عاد نامی قبیلے نے اپنے رسول ہودu کی تکذیب کی، ان کا ہودu کی تکذیب کرنا تمام رسولوں کی تکذیب ہے کیونکہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہے۔ ﴿ اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ ﴾ ’’جب ان کے بھائی نے انھیں کہا۔‘‘ یعنی نسبی بھائی ﴿ هُوْدٌ ﴾ ’’ہودu نے‘‘ نہایت شفقت اور بہترین طریقے سے مخاطب ہو کر کہا: ﴿اَلَا تَتَّقُوْنَ ﴾ ’’کیا تم ڈرتے نہیں ۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کو چھوڑتے نہیں ؟ ﴿ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ﴾ ’’میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم پر رحم اور نظر عنایت کرتے ہوئے مجھے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایک امانت دار شخص ہوں اس تمہید پر انھوں نے اپنا یہ قول مرتب کیا۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِیْعُوْنِ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو اور وہ ہے تقویٰ اور میں جن امور کا حکم دیتا ہوں اور جن امور سے روکتا ہوں ، ان میں میری اطاعت کر کے میرا حق ادا کرو اور یہ چیز اس امر کی موجب ہے کہ تم میری اتباع اور اطاعت کرو۔ تمھارے ایمان لانے میں کوئی چیز مانع نہیں اور میں تمھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے اور خیرخواہی کرنے کے بدلے میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا کہ تم اسے بھاری تاوان خیال کرو۔ ﴿ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴾ ’’میرا اجر تو رب کائنات کے ذمہ ہے‘‘ جس نے بے شمار نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کی اور اپنے فضل و کرم کا ان پر فیضان کیا، خاص طور پر جو اس نے اپنے اولیاء و انبیاء کی تربیت فرمائی۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 124 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنملالنمل

غلطی کی اطلاع دیں

مزید