الشعراء

شعراء

227 آیاتمکیپارہ 19

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 183

    وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ

    لوگوں کو ان کی چیزیں کمی سے نہ دو[1] بے باکی کے ساتھ زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو.[2]

    حواشی

    [1] یعنی لوگوں کو دیتے وقت ناپ یا تول میں کمی مت کرو۔ [2] یعنی اللہ کی نافرمانی مت کرو، اس سے زمین میں فساد پھیلتا ہے۔ بعض نے اس سے مراد وہ رہزنی لے لی ہے، جس کا ارتکاب بھی یہ قوم کرتی تھی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے، «وَلا تَقْعُدُوا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ» (الأعراف: 86) ”راستوں میں لوگوں کو ڈرانے کے لیے مت بیٹھو“۔ (ابن کثیر)۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 181 - 184 کی تفسیر

    [184-181] یہ لوگ اپنے شرک کے ساتھ ساتھ ناپ تول میں بھی کمی کرتے تھے۔اس لیے شعیبu نے ان سے فرمایا: ﴿اَوْفُوا الْكَیْلَ﴾ ’’ ناپ کو پورا کرو‘‘ ﴿وَلَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَ ﴾ ’’اور کم کرکے دینے والوں میں شمولیت نہ کرو۔‘‘ یعنی جو ناپ تول میں کمی کر کے لوگوں کے مال کم کرتے ہیں ، ان کے مال ہتھیا لیتے ہیں ﴿ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ ﴾ یعنی پورا تولنے والے درست ترازو کے ساتھ تولو جو کسی طرف نہ جھکے۔ ﴿ وَاتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْ٘نَ﴾ ’’اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے خلقت کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا، وہ جس طرح تمھاری تخلیق میں منفرد ہے اسی طرح اس نے تم سے پہلے لوگوں کو کسی کی شراکت کے بغیر پیدا کیا۔ اس لیے اس اکیلے کو عبادت اور توحید کا مستحق جانو جس طرح اس نے تمھیں وجود عطا کیا اور تمھیں بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیا اسی طرح تم بھی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 183 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنملالنمل

غلطی کی اطلاع دیں

مزید