الشعراء

شعراء

227 آیاتمکیپارہ 19

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 214

    وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ ٱلْأَقْرَبِينَ

    اپنے قریبی رشتہ والوں کو ڈرا دے.[1]

    حواشی

    [1] پیغمبر کی دعوت صرف رشتے داروں کے لیے نہیں، بلکہ پوری قوم کے لیے ہوتی ہے اور نبی (صلى الله عليه وسلم) تو پوری نسل انسانی کے لیے ہادی اور رہبر بن کر آئے تھے۔ قریبی رشتے داروں کو دعوت ایمان، دعوت عام کے منافی نہیں، بلکہ اسی کا ایک حصہ یا اس کا ایک ترجیحی پہلو ہے۔ جس طرح حضرت ابراہیم (عليه السلام) نے بھی سب سے پہلے اپنے باپ آزر کو توحید کی دعوت دی تھی۔ اس حکم کےبعد نبی (صلى الله عليه وسلم) صفاپہاڑی پر چڑھ گئے اور يَا صَبَاحَاهُ کہہ کر آواز دی۔ یہ کلمہ اس وقت بولا جاتا ہے جب دشمن اچانک حملہ کردے، اس کے ذریعے سے قوم کو خبردار کیا جاتا ہے۔ یہ کلمہ سن کر لوگ جمع ہوگئے، آپ نے قریش کے مختلف قبیلوں کے نام لے لے کر فرمایا، بتلاؤ اگر میں تمہیں یہ کہوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر دشمن کا لشکر موجود ہے جو تم پر حملہ آور ہواچاہتا ہے، تو کیا تم مانو گے؟ سب نےکہا ہاں، یقیناً ہم تصدیق کریں گے۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ مجھے اللہ نے نذیربنا کربھیجا ہے، میں تمہیں ایک سخت عذاب سے ڈراتا ہوں، اس پر ابو لہب نے کہا تَبًّا لَكَ أَمَا دَعَوْتَنَا إِلا لِهَذَا ”تیرے لیے ہلاکت ہو، کیا تو نے ہمیں اسی لیے بلایا تھا؟“ اس کے جواب میں سورۂ تبت نازل ہوئی (صحيح بخاري، تفسير سورة المسد) آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اپنی بیٹی فاطمہ (رضی الله عنها) اور اپنی پھوپھی حضرت صفیہ (رضی الله عنها) کو بھی فرمایا، تم اللہ کے ہاں بچاؤ کا بندوبست کر لو، میں وہاں تمہارے کام نہیں آسکوں گا (صحيح مسلم كتاب الإيمان، باب وأنذر عشيرتك الأقربين)۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 214 کی تفسیر

    [214] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (e)کو ان امور کا حکم دیا جن سے آپ کے نفس کو کمال حاصل ہوتا ہے تو پھر آپ کو دوسروں کی تکمیل کے بارے میں حکم فرمایا، چنانچہ فرمایا: ﴿وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْ٘رَبِیْنَ ﴾ ’’اور اپنے قریبی عزیزوں کو ڈرائیں ۔‘‘ یعنی جو آپ کے سب سے زیادہ قریبی اور دینی اور دنیاوی احسان کے سب سے زیادہ مستحق ہیں ۔ یہ چیز تمام لوگوں کو ڈرانے کے حکم کے منافی نہیں ہے۔ جیسے، جب انسان کو عمومی احسان کا حکم دیا جاتا ہے اور پھر اسے کہا جاتا ہے: (أحسن الیٰ قرابتک) ’’اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔‘‘ تب یہ خاص حکم تاکید اور حق کے زیادہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نبی اکرمe نے اس حکم الٰہی کی تعمیل کی، چنانچہ آپ نے قریش کے تمام گھرانوں کو عمومی اور خصوصی دعوت دی ان کو وعظ و نصیحت کی۔ آپ نے اپنے رشتہ داروں کی خیر خواہی اور ہدایت کے لیے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ جسے ہدایت عطا ہونی تھی اس نے ہدایت حاصل کر لی، جس نے روگردانی کرنی تھی اس نے روگردانی کی۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 214 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنملالنمل

غلطی کی اطلاع دیں

مزید