الشعراء

شعراء

227 آیاتمکیپارہ 19

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 74

    قَالُوا۟ بَلْ وَجَدْنَآ ءَابَآءَنَا كَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ

    انہوں نے کہا یہ (ہم کچھ نہیں جانتے) ہم تو اپنے باپ دادوں کو اسی طرح کرتے پایا.[1]

    حواشی

    [1] جب وہ حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے سوال کا کوئی معقول جواب نہیں دے سکتے تو یہ کہہ کر چھٹکارا حاصل کرلیا۔ جیسے آج بھی لوگوں کو قرآن و حدیث کی بات بتلائی جائے تو یہی عذر پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے خاندان میں تو ہمارے آباواجداد سے یہی کچھ ہوتا آرہا ہے، ہم اسے نہیں چھوڑ سکتے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 72 - 74 کی تفسیر

    [74-72] ابراہیمu نے ان بتوں کے لیے عبادت کے عدم استحقاق کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ۠ اِذْ تَدْعُوْنَ﴾ ’’جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمھاری پکار کو سنتے ہیں ؟‘‘ تمھاری پکار کا جواب دیتے ہیں ، تمھاری تکلیف کو دور کرتے ہیں اور تم سے ہر ناپسندیدہ امر کو زائل کرتے ہیں ؟ ﴿ اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ۠ اَوْ یَضُرُّوْنَ﴾ ’’یا وہ تمھیں کوئی نفع یا نقصان دے سکتے ہیں ؟‘‘ انھوں نے اقرار کیا کہ ان مذکورہ صفات میں سے کوئی بھی ان میں موجود نہیں ۔ وہ پکار کو سن سکتے ہیں نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس لیے جب آپ نے بتوں کو توڑا تو فرمایا: ﴿ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰؔذَا فَسْـَٔلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ﴾ (الانبیاء:21؍63) ’’بلکہ یہ سب کچھ ان کے بڑے نے کیا ہے ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں ۔‘‘ انھوں نے جواب دیا: ﴿ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ﴾ (الانبیاء:21؍65) ’’تمھیں علم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی زبان حال ہی سے یہ امر ثابت ہو رہا ہے جس میں کوئی شک و شبہ اور اشکال نہیں ۔ انھوں نے اپنے گمراہ آباء و اجداد کی تقلید کا سہارا لیتے ہوئے کہا: ﴿ بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ﴾ ’’بلکہ ہم نے اپنے آباء واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہے‘‘ اور ہم نے ان کی پیروی کی اور ان کی عادات کی اتباع کرتے ہوئے ان کے راستے پر گامزن ہوئے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 74 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنملالنمل

غلطی کی اطلاع دیں

مزید