الشعراء

شعراء

227 آیاتمکیپارہ 19

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 92

    وَقِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ

    اور ان سے پوچھا جائے گا کہ جن کی تم پوجا کرتے رہے وه کہاں ہیں؟

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 90 - 95 کی تفسیر

    [95-90] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس عظیم دن کی صفات اور اس میں واقع ہونے والے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ ﴾ ’’ جنت قریب کر دی جائے گی‘‘ ﴿ لِلْ٘مُتَّقِیْنَ﴾ ’’متقین کے‘‘ یعنی ان کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتے ہیں نیز اپنے رب کے عذاب اور اس کی ناراضی سے ڈرتے ہیں ۔ ﴿ وَبُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ﴾ ’’اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا‘‘ اور ہر قسم کے عذاب کے ساتھ اس کو تیار کیا جائے گا ﴿ لِلْغٰوِیْنَ﴾ ’’گمراہ لوگوں کے لیے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا رہے، اس کے محارم کے ارتکاب کی جرأت کی، اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور رسول جو دعوت حق لے کر آئے تھے اس کو ٹھکرا دیا۔ ﴿ وَقِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ ۰۰مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَ﴾ ’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ تمھاری مدد کر سکتے ہیں یا خود بدلہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی وہ کچھ بھی کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اس سے ان کا جھوٹ اور ان کی ذلت و رسوائی ظاہر ہو جائے گی، ان کا خسارہ، فضیحت اور ندامت عیاں ہو جائے گی اور ان کی تمام کوشش رائیگاں جائے گی۔ ﴿ فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا﴾ ’’پس وہ اوندھے منہ اس میں ڈال دیے جائیں گے۔‘‘ یعنی جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ ﴿ هُمْ﴾ ’’ان کو‘‘ یعنی ان معبودوں کو جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے ﴿ وَالْغَاوٗنَ﴾ اور ان کے گمراہ عبادت گزاروں کو۔ ﴿ وَجُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَ﴾ ’’اور شیطان کے لشکر سب کے سب۔‘‘ یعنی شیاطین جن و انس، جنھیں ابلیس گناہوں پر اکسایا کرتا تھا، ان کے شرک اور عدم ایمان کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گیا تھا اور یہ جن و انس اس کے داعی بن کر اس کو راضی کرنے کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ جہنم میں جھونکے جانے والے یہ تمام لوگ یا تو ابلیس کی اطاعت کی طرف دعوت دیتے تھے یا وہ لوگ تھے جو اس دعوت پر لبیک کہتے تھے اور ان کے شرک میں ان کی تقلید کرتے تھے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 92 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتنملالنمل

غلطی کی اطلاع دیں

مزید