القصص

قصص

88 آیاتمکیپارہ 20

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 15

    وَدَخَلَ ٱلْمَدِينَةَ عَلَىٰ حِينِ غَفْلَةٍ مِّنْ أَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ هَـٰذَا مِن شِيعَتِهِۦ وَهَـٰذَا مِنْ عَدُوِّهِۦ ۖ فَٱسْتَغَـٰثَهُ ٱلَّذِى مِن شِيعَتِهِۦ عَلَى ٱلَّذِى مِنْ عَدُوِّهِۦ فَوَكَزَهُۥ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيْهِ ۖ قَالَ هَـٰذَا مِنْ عَمَلِ ٱلشَّيْطَـٰنِ ۖ إِنَّهُۥ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِينٌ

    اور موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایسے وقت شہر میں آئے جبکہ شہر کے لوگ غفلت میں تھے[1] ۔ یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا، یہ ایک تو اس کے رفیقوں میں سے تھا اور یہ دوسرا اس کے دشمنوں میں سے[2]، اس کی قوم والے نے اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا اس سے فریاد کی، جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو مکا مارا جس سے وه مر گیا موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے[3]، یقیناً شیطان دشمن اور کھلے طور پر بہکانے واﻻ ہے.[4]

    حواشی

    [1] اس سے بعض نے مغرب اور عشا کے درمیان کا وقت اور بعض نے نصف النہار مراد لیا ہے۔ جب لوگ آرام کر رہے ہوتے ہیں۔ [2] یعنی فرعون کی قوم قبط میں سے تھا۔ [3] اسے شیطانی فعل اس لیے قرار دیا کہ قتل ایک نہایت سنگین جرم ہے اور حضرت موسیٰ (عليه السلام) کا مقصد اسے ہر گز قتل کرنا نہیں تھا۔ [4] جس کی انسان سے دشمنی بھی واضح ہے اور انسان کو گمراہ کرنے کے لیے وہ جو جو جتن کرتا ہے، وہ بھی مخفی نہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 15 - 17 کی تفسیر

    [17-15] ﴿ وَدَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا ﴾ ’’اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔‘‘ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں ۔ ﴿ فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْ٘نِ یَقْتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ ﴾ ’’ایک تو ان کی قوم سے تھا۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَا مِنْ عَدُوِّهٖ﴾ ’’دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔‘‘ مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ﴾ ’’پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰu سے مدد طلب کی۔‘‘ کیونکہ موسیٰu کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰu بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ موسیٰu سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗ مُوْسٰؔى ﴾ موسیٰu نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَ٘قَ٘ضٰى عَلَیْهِ﴾ پس حضرت موسیٰu کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَا مِنْ عَمَلِ الشَّ٘یْطٰ٘نِ﴾ ’’یہ شیطان کا عمل ہے۔‘‘ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ ﴾ ’’بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔‘‘ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔ پھر موسیٰu نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْ٘فِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ﴾ ’’اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔ ﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے عرض کیا: ﴿ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ ﴾ ’’اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔‘‘ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلْمُجْرِمِیْنَ ﴾ ’’گناہ گاروں کا‘‘ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰu کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں ۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں ۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 15 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتعنکبوتالعنكبوت

غلطی کی اطلاع دیں

مزید