القصص

قصص

88 آیاتمکیپارہ 20

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 31

    وَأَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ۖ فَلَمَّا رَءَاهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنٌّ وَلَّىٰ مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَـٰمُوسَىٰٓ أَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ ۖ إِنَّكَ مِنَ ٱلْـَٔامِنِينَ

    اور یہ (بھی آواز آئی) کہ اپنی ﻻٹھی ڈال دے۔ پھر جب اسے دیکھا کہ وه سانﭗ کی طرح پھن پھنا رہی ہے تو پیٹھ پھیر کر واپس ہوگئے اور مڑ کر رخ بھی نہ کیا، ہم نے کہا اے موسیٰ! آگے آ ڈر مت، یقیناً تو ہر طرح امن واﻻ ہے.[1]

    حواشی

    [1] یہ موسیٰ (عليه السلام) کا وہ معجزہ ہے جو کوہ طور پر، نبوت سے سرفراز کیے جانے کے بعد ان کو ملا۔ چونکہ معجزہ خرق عادت معاملے کو کہا جاتا ہے یعنی جو عام عادات اور اسباب ظاہری کے خلاف ہو۔ ایسا معاملہ چونکہ اللہ کے حکم اور مشیت سے ظاہر ہوتا ہے کسی بھی انسان کے اختیار سے نہیں۔ چاہے وہ جلیل القدر پیغمبر اور نبی مقرب ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے جب موسیٰ (عليه السلام) کے اپنے ہاتھ کی لاٹھی ، زمین پر پھینکنے سے حرکت کرتی اور دوڑتی پھنکارتی سانپ بن گئی، تو حضرت موسیٰ (عليه السلام) بھی ڈر گئے۔ جب اللہ تعالیٰ نے بتلایا اور تسلی دی تو حضرت موسیٰ (عليه السلام) کا خوف دور ہوا اور یہ واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی صداقت کے لیے بطور دلیل یہ معجزہ انہیں عطا فرمایا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 31 کی تفسیر

    [31] ﴿ وَاَنْ اَلْ٘قِ عَصَاكَ ﴾ ’’اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دیں ‘‘ تو آپ نے اپنا عصا پھینک دیا۔ ﴿ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ ﴾ ’’پس جب موسیٰ نے لاٹھی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو دوڑتا ہوا دیکھا اس کی شکل بہت ہولناک تھی ﴿ كَاَنَّهَا جَآنٌّ ﴾ گویا کہ وہ بہت بڑا نر سانپ ہے۔ ﴿ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ﴾ تو موسیٰu واپس بھاگے اور دل پر خوف کے غلبہ کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا: ﴿ یٰمُوْسٰۤى اَ٘قْبِلْ وَلَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ ﴾ ’’اے موسیٰ! آگے آؤ اور ڈرومت، تم امن پانے والوں میں ہو۔‘‘ یہ فقرہ عدم خوف اور امن عطا کرنے میں بلیغ ترین فقرہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿٘اَقْبِلْ﴾ سامنے آنے کے حکم اور اس کی تعمیل کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان سامنے آتا ہے مگر وہ ابھی تک خوف کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَا تَخَفْ ﴾ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu کو دو امور کا حکم دیا۔ سامنے آنا اور دل میں کسی قسم کے خوف کو نہ رکھنا۔ مگر ان کے باوجود یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ شخص مامور خوف سے آزاد ہو کر آئے مگر اسے امر مکروہ سے حفاظت اور امن کی ضمانت حاصل نہ ہو۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ ﴾ ’’بے شک آپ امن پانے والوں میں سے ہیں ‘‘ تب خوف ہر لحاظ سے زائل ہو جاتا ہے۔ پس موسیٰu ہر خوف اور رعب سے آزاد اور مطمئن ہو کر اور اپنے رب کی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے سامنے آئے، ان کے ایمان میں اضافہ اور ان کا یقین مکمل ہو چکا تھا۔ یہ معجزہ تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرعون کے پاس جانے سے قبل آپ کو مشاہدہ کروایا تاکہ جب آپ فرعون کے پاس جائیں تو یقین کامل کے مقام پر فائز ہوں تو اس صورت میں آپ زیادہ جرأ ت، زیادہ قوت اور صلابت کے ساتھ فرعون کے پاس جائیں گے

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 31 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتعنکبوتالعنكبوت

غلطی کی اطلاع دیں

مزید