القصص

قصص

88 آیاتمکیپارہ 20

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 43

    وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَـٰبَ مِنۢ بَعْدِ مَآ أَهْلَكْنَا ٱلْقُرُونَ ٱلْأُولَىٰ بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ

    اور ان اگلے زمانہ والوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسی کتاب عنایت فرمائی[1] جو لوگوں کے لیے دلیل اور ہدایت ورحمت ہوکر آئی تھی[2] تاکہ وه نصیحت حاصل کرلیں.[3]

    حواشی

    [1] یعنی فرعون اور اس کی قوم یا قوم نوح وعاد وثمود وغیرہ کی ہلاکت کے بعد موسیٰ (عليه السلام) کو کتاب (تورات) دی۔ [2] جس سے وہ حق کو پہچان لیں اور اسے اختیار کریں اور اللہ کی رحمت کے مستحق قرار پائیں۔ [3] یعنی اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اللہ پر ایمان لائیں اور اس کے پیغمبروں کی اطاعت کریں جو انہیں خیر ورشد اور فلاح حقیقی کی طرف بلاتے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 43 کی تفسیر

    [43] ﴿ وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْ٘قُ٘رُوْنَ الْاُوْلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّـرُوْنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 43 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتعنکبوتالعنكبوت

غلطی کی اطلاع دیں

مزید