القصص

قصص

88 آیاتمکیپارہ 20

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 46

    وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ ٱلطُّورِ إِذْ نَادَيْنَا وَلَـٰكِن رَّحْمَةً مِّن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّآ أَتَىٰهُم مِّن نَّذِيرٍ مِّن قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ

    اور نہ تو طور کی طرف تھا جب کہ ہم نے آواز دی[1] بلکہ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے ایک رحمت ہے[2]، اس لیے کہ تو ان لوگوں کو ہوشیار کر دے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے واﻻ نہیں پہنچا[3]، کیا عجب کہ وه نصیحت حاصل کرلیں.

    حواشی

    [1] یعنی اگر آپ رسول برحق نہ ہوتے تو موسیٰ (عليه السلام) کے اس واقعے کا علم بھی آپ کو نہ ہوتا۔ [2] یعنی آپ کا یہ علم، مشاہدہ و رویت کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ آپ کے پروردگار کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو نبی بنایا اور وحی سے نوازا۔ [3] اس سے مراد، اہل مکہ اور عرب ہیں جن کی طرف نبی (صلى الله عليه وسلم) سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا، کیونکہ حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے بعد نبوت کا سلسلہ خاندان ابراہیمی ہی میں رہا اور ان کی بعثت بنی اسرائیل کی طرف ہی ہوتی رہی۔ بنی اسماعیل یعنی عربوں میں نبی (صلى الله عليه وسلم) پہلے نبی تھے اور سلسلۂ نبوت کے خاتم تھے۔ ان کی طرف نبی بھیجنے کی ضرورت اس لیے نہیں سمجھی گئی ہوگی کہ دوسرے انبیا کی دعوت اور ان کا پیغام ان کو پہنچتا رہا ہوگا۔ کیونکہ اس کے بغیر ان کے لیے کفروشرک پر جمے رہنے کا عذر موجود رہے گا اور یہ عذر اللہ نے کسی کے لیے باقی نہیں چھوڑا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 46 کی تفسیر

    [46] ﴿ وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ e نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں : یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ e اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔ پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ e تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ e کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ e پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَلٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہe سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّـرُوْنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ e اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔ اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ﴾ (یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُ٘لْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعًا﴾ (الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 46 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتعنکبوتالعنكبوت

غلطی کی اطلاع دیں

مزید