القصص

قصص

88 آیاتمکیپارہ 20

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 54

    أُو۟لَـٰٓئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا۟ وَيَدْرَءُونَ بِٱلْحَسَنَةِ ٱلسَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَـٰهُمْ يُنفِقُونَ

    یہ اپنے کیے ہوئے صبر کے بدلے دوہرا دوہرا اجر دیئے جائیں گے[1] ۔ یہ نیکی سے بدی کو ٹال دیتے ہیں[2] اور ہم نے جو انہیں دے رکھا ہے اس میں سے دیتے رہتے ہیں.

    حواشی

    [1] صَبْرٌ سے مراد ہر قسم کے حالات میں انبیاء اور کتاب الٰہی پر ایمان اور اس پر ثابت قدمی سے قائم رہنا ہے۔ پہلی کتاب آئی تو اس پر، اس کے بعد دوسری پر ایمان رکھا۔ پہلے نبی پر ایمان لائے، اس کے بعد دوسرا نبی آگیا تو اس پر ایمان لائے۔ ان کے لیے دوہرا اجر ہے ، حدیث میں بھی ان کی یہ فضیلت بیان کی گئی ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا، تین آدمیوں کے لیے دوہرا اجر ہے، ان میں ایک وہ اہل کتاب ہے جو اپنے نبی پر ایمان رکھتا تھا اور پھر مجھ پر ایمان لے آیا۔ (صحيح بخاري، كتاب العلم، باب تعليم الرجل أمته وأهله- مسلم، كتاب الإيمان، باب وجوب الإيمان برسالة نبينا) [2] یعنی برائی کا جواب برائی سے نہیں دیتے، بلکہ معاف کر دیتے اور درگزر سےکام لیتے ہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 54 کی تفسیر

    [54] ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی لوگ۔‘‘ یعنی جو دونوں کتابوں پر ایمان لائے۔ ﴿ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ ﴾ ’’ان کو دوبار اجر عطا کیا جائے گا‘‘ ایک اجر پہلی کتاب پر ایمان لانے پر اور ایک اجر دوسری کتاب پر ایمان لانے پر ﴿ بِمَا صَبَرُوْا ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ایمان پر صبر کیا اور عمل پر ثابت قدم رہے کوئی شبہ ان کے ایمان کو متزلزل کر سکا نہ کوئی ریاست و شہوت ان کو اپنے ایمان سے ہٹا سکی۔ وہ اپنے بہترین خصائل جو ان کے ایمان صحیح کے آثار ہیں ، کے ذریعے سے بے شک وہ ﴿ وَیَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ ﴾ ’’برائی کو بھلائی کے ساتھ دفع کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ان کی عادت اور طریقہ ہے۔ یہاں تک کہ جو کوئی قول و فعل کے ذریعے سے ان کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے تو یہ اچھی بات اور اچھے فعل کے ذریعے سے ان کا مقابلہ کرتے ہیں کیونکہ انھیں اس خلق عظیم کی فضیلت کا اچھی طرح علم ہے اور انھیں یہ بھی علم ہے کہ اس خلق عظیم کی توفیق کسی خوش قسمت ہی کو حاصل ہوتی ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 54 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتعنکبوتالعنكبوت

غلطی کی اطلاع دیں

مزید