القصص

قصص

88 آیاتمکیپارہ 20

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 59

    وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ ٱلْقُرَىٰ حَتَّىٰ يَبْعَثَ فِىٓ أُمِّهَا رَسُولًا يَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِنَا ۚ وَمَا كُنَّا مُهْلِكِى ٱلْقُرَىٰٓ إِلَّا وَأَهْلُهَا ظَـٰلِمُونَ

    تیرا رب کسی ایک بستی کو بھی اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کی کسی بڑی بستی میں اپنا کوئی پیغمبر نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنا دے[1] اور ہم بستیوں کو اسی وقت ہلاک کرتے ہیں جب کہ وہاں والے ﻇلم وستم پر کمر کس لیں.[2]

    حواشی

    [1] یعنی اتمام حجت کے بغیر کسی کو ہلاک نہیں کرتا۔ أُمِّهَا (بڑی بستی) کے لفظ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر چھوٹے بڑے علاقے میں نبی نہیں آیا، بلکہ مرکزی مقامات پر نبی آتے رہے اور چھوٹے علاقے اس کے ذیل میں آجاتے رہے ہیں۔ [2] یعنی نبی بھیجنے کے بعد وہ بستی والے ایمان نہ لاتے اور کفروشرک پر اپنا اصرار جاری رکھتے تو پھر انہیں ہلاک کر دیا جاتا۔ یہی مضمون سورہ ھود: 117 میں بھی بیان کیا گیا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 59 کی تفسیر

    [59] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت اور رحمت ہے کہ وہ قوموں پر ان کے مجرد کفر کی بنا پر، ان پر حجت قائم کرنے اور ان کی طرف رسول مبعوث کرنے سے قبل، عذاب نازل نہیں کرتا۔ بنابریں فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْ٘قُ٘رٰى ﴾ ’’اور تمھارا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا۔‘‘ یعنی ان کے کفر اور ظلم کی بنا پر ﴿ حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا ﴾ ’’جب تک ان کے بڑے شہر میں نہ بھیج لے۔‘‘ یعنی اس بستی اور شہر میں ، جہاں سے وہ گزرتے ہیں ، جہاں وہ آتے جاتے رہتے ہیں ، ان بستیوں کے اردگرد پھرتے رہتے ہیں اور ان سے ان کی خبریں اور واقعات مخفی نہیں رہتے ہیں ۔ ﴿ رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا﴾ ’’رسول جو ان پر ہماری آیتیں پڑھتا۔‘‘ جو اس وحی کی صحت پر دلالت کرتیں جسے رسول لے کر آیا اور اس کی دعوت کی تصدیق کرتی تھیں اور اللہ کا رسول ان کے قریب اور دور سب کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتا تھا۔ اس کے برعکس دور دراز بستیوں اور زمین کے دور دراز گوشوں میں ، رسولوں کا مبعوث ہونا ان پر مخفی رہ سکتا ہے۔ مگر بڑے بڑے شہروں میں ان اخبار و واقعات کا شائع ہونا زیادہ یقینی ہے اور غالب حالات میں شہروں کے باشندوں میں دوسروں کی نسبت جفا کم ہوتی ہے۔ ﴿ وَمَا كُنَّا مُهْلِـكِی الْ٘قُ٘رٰۤى اِلَّا وَاَهْلُهَا ظٰ٘لِمُوْنَ ﴾ ’’اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اسی وقت جبکہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں ۔‘‘ یعنی انھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے ظلم کیا اور سزا کے مستحق ٹھہرے۔ حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کے ظلم کی بنا پر اور اس پر حجت قائم کرنے کے بعد ہی عذاب دیتا ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 59 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتعنکبوتالعنكبوت

غلطی کی اطلاع دیں

مزید