القصص

قصص

88 آیاتمکیپارہ 20

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 65

    وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ مَاذَآ أَجَبْتُمُ ٱلْمُرْسَلِينَ

    اس دن انہیں بلا کر پوچھے گا کہ تم نے نبیوں کو کیا جواب دیا؟[1]

    حواشی

    [1] اس سے پہلے کی آیات میں توحید سے متعلق سوال تھا، یہ ندائے ثانی رسالت کے بارے میں ہے، یعنی تمہاری طرف ہم نے رسول بھیجے تھے، تم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا، ان کی دعوت قبول کی تھی؟ جس طرح قبر میں سوال ہوتا ہے، تیرا پیغمبر کون ہے؟ اور تیرا دین کون سا ہے؟ مومن تو صحیح جواب دے دیتا ہے۔ لیکن کافر کہتا ہے هَاهْ هَاهْ لا أَدْرِي مجھے تو کچھ معلوم نہیں، اسی طرح قیامت والے دن انہیں اس سوال کا کوئی جواب نہیں سوجھے گا۔ اسی لیے آگے فرمایا ”ان پر تمام خبریں اندھی ہو جائیں گی“۔ یعنی کوئی دلیل ان کی سمجھ میں نہیں آئے گی جسے وہ پیش کرسکیں۔ یہاں دلائل کو اخبار سے تعبیر کرکے اس طرف اشارہ فرما دیا کہ ان کے باطل عقائد کے لیے حقیقت میں ان کے پاس کوئی دلیل ہے ہی نہیں، صرف قصص وحکایات ہیں۔ جیسے آج بھی قبر پرستوں کے پاس من گھڑت کراماتی قصوں کے سوا کچھ نہیں۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 65 - 66 کی تفسیر

    [66,65] ﴿ وَیَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَاذَاۤ اَجَبْتُمُ الْ٘مُرْسَلِیْ٘نَ ﴾ ’’اور جس روز اللہ ان کو پکارے گا اور کہے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟‘‘ یعنی آیا تم نے ان کی تصدیق کر کے ان کی اتباع کی یا تم نے ان کی تکذیب کر کے ان کی مخالفت کا راستہ اختیار کیا؟ ﴿ فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَىِٕذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ۠ ﴾ یعنی انھیں اس سوال کا جواب بن نہیں پڑے گا اور نہ انھیں صواب کا راستہ ہی ملے گا اور یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ اس مقام پر صریح اور صحیح جواب دیے بغیر ان کی جان نہیں چھوٹے گی، یعنی اپنے احوال کے مطابق انھیں بتانا پڑے گا کہ انھوں نے ایمان اور اطاعت کے ساتھ رسولوں کی آواز پر لبیک کہی تھی مگر جب انھیں اپنے رسولوں کو جھٹلانے کے رویے، ان کے ساتھ اپنے عناد اور ان کے احکام کی مخالفت کے بارے میں معلوم ہو گا تو وہ کچھ نہیں بولیں گے اور نہ ایک دوسرے سے پوچھ سکیں گے کہ کیا جواب دیں خواہ جواب جھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 65 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتعنکبوتالعنكبوت

غلطی کی اطلاع دیں

مزید