القصص

قصص

88 آیاتمکیپارہ 20

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 74

    وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَآءِىَ ٱلَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ

    اور جس دن انہیں پکار کر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جنہیں تم میرے شریک خیال کرتے تھے وه کہاں ہیں؟

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 74 - 75 کی تفسیر

    [75,74] جس روز اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور ان لوگوں کو… جو غیر اللہ کو اس کا ہمسر ٹھہراتے ہیں ، جو یہ سمجھتے ہیں کہ الوہیت میں غیر اللہ کا حصہ ہے اور ان کے یہ خود ساختہ معبود عبادت کے مستحق ہیں اور نفع و نقصان دینے کی طاقت رکھتے ہیں … پکارے گا۔ پس جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ مشرکین کی جسارت، ان کے زعم کا ذب اور ان کی خود اپنے آپ کی تکذیب کو ظاہر کرنا چاہے گا۔ ﴿یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُ٘رَؔكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ﴾ ’’تو ان کو پکار کر پوچھے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم، شریک سمجھتے تھے۔‘‘ یہ نفس امر میں شریک نہیں بلکہ ان کے زعم باطل کے مطابق شریک ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَمَا یَتَّ٘بِـعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُ٘رَؔكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّ٘نَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ﴾ (یونس:10؍66) ’’اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا اپنے خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ تو محض اپنے وہم و گمان کے پیرو ہیں اور وہ صرف قیاس آرائیاں کررہے ہیں ۔‘‘ جب یہ مشرکین اور ان کے معبودان باطل اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ﴿ مِنْ كُ٘لِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ﴾ ’’ہر امت میں سے ایک گواہ‘‘ یعنی جھٹلانے والی ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کرے گا جو دنیا میں ان کے کرتوتوں ، ان کے شرک اور ان کے اعتقادات پر گواہی دے گا اور یہ منتخب لوگ ہوں گے یعنی ہم جھٹلانے والوں کے سرداروں میں سے کچھ لوگوں کو منتخب کر لیں گے جو اپنی طرف سے اور اپنے بھائیوں کی طرف سے جھگڑیں گے کیونکہ وہ ایک ہی راستے پر چلتے رہے ہیں اور جب وہ محاکمہ کے لیے سامنے آئیں گے ﴿ فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ ﴾ ’’تو ہم (ان سے) کہیں گے اپنی دلیل لاؤ‘‘ یعنی اپنے شرک کی صحت پر حجت و برہان کہ آیا ہم نے تمھیں اس شرک کا حکم دیا؟ کیا میرے رسولوں نے تمھیں اس کا حکم دیا؟ یا اس شرک کے جواز کے بارے میں تم نے میری کتابوں میں کچھ لکھا ہوا پایا؟ کیا ان خود ساختہ شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو الوہیت کا مستحق ہو؟ کیا یہ معبود تمھیں کوئی فائدہ دے سکتے ہیں ؟ یا تم سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ہٹانے میں تمھارے کوئی کام آ سکتے ہیں ؟ اگر ان میں کوئی اہلیت ہے تو وہ یہ کام کر دیکھیں وہ تم سے عذاب الٰہی کو دور کریں اگر وہ ایسا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ۔ ﴿ فَعَلِمُوْۤا ﴾ ’’تب وہ جان لیں گے‘‘ اپنے قول کے بطلان و فساد کو اور انھیں یہ بھی معلوم ہو جائے گا ﴿ اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ ﴾ ’’کہ حق اللہ ہی کے لیے ہے‘‘ خصومت ان کی طرف رخ کر لے گی۔ ان کی حجت ناکام اور اللہ تعالیٰ کی حجت غالب آ جائے گی۔ ﴿ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ﴾ ’’جو جھوٹ اور بہتان انھوں نے گھڑا تھا سب مضمحل، ناپید اور معدوم ہو جائے گا۔‘‘ انھیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں انصاف کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صرف اسی شخص کو سزا دی ہے جو اس کا مستحق اور اہل ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 74 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورتعنکبوتالعنكبوت

غلطی کی اطلاع دیں

مزید