العنكبوت

عنکبوت

69 آیاتمکیپارہ 20

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 18

    وَإِن تُكَذِّبُوا۟ فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِّن قَبْلِكُمْ ۖ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَـٰغُ ٱلْمُبِينُ

    اور اگر تم جھٹلاؤ تو تم سے پہلے کی امتوں نے بھی جھٹلایا ہے[1] ، رسول کے ذمہ تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہی ہے.[2]

    حواشی

    [1] یہ حضرت ابراہیم (عليه السلام) کا قول بھی ہوسکتا ہے، جو انہوں نے اپنی قوم سے کہا۔ یا اللہ تعالیٰ کا قول ہے جس میں اہل مکہ سے خطاب ہے اور اس میں نبی (صلى الله عليه وسلم) کو تسلی دی جارہی ہے کہ کفار مکہ اگر آپ کو جھٹلا رہے ہیں، تو اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پیغمبروں کے ساتھ یہی ہوتا آیا ہے۔ پہلی امتیں بھی رسولوں کو جھٹلاتی اور اس کا نتیجہ بھی وہ ہلاکت وتباہی کی صورت میں بھگتتی رہی ہیں۔ [2] اس لیے آپ بھی تبلیغ کا کام کرتے رہیے۔ اس سے کوئی راہ یاب ہوتا ہے یا نہیں؟ اس کے ذمے دار آپ نہیں ہیں، نہ آپ سے اس کی بابت پوچھا ہی جائے گا، کیونکہ ہدایت دینا نہ دینا یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے، جو اپنی سنت کے مطابق، جس میں ہدایت کی طلب صادق دیکھتا ہے، اس کو ہدایت سے نواز دیتا ہے۔ دوسروں کو ضلالت کی تاریکیوں میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 17 - 18 کی تفسیر

    [18,17] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور تقویٰ کا حکم دیا ہے اس لیے ان کو بتوں کی عبادت سے روکا ہے اور ان کے نقص اور عبودیت کے لیے ان کے عدم استحقاق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّتَخْلُقُوْنَ اِفْكًا﴾ ’’تم اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہو اور جھوٹ گھڑتے ہو۔‘‘ تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑ کر ان بتوں کو تخلیق کرتے ہو، پھر تم ان کے معبودوں والے نام رکھتے ہو اور پھر تم ان کی عبادت اور تمسک کے لیے جھوٹے احکام گھڑتے ہو ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ﴾ ’’بے شک جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔‘‘ وہ ناقص ہیں ان میں کوئی بھی ایسی صفت نہیں ہے جو ان کی عبادت کی مقتضی ہو۔ ﴿ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا ﴾ ’’وہ تمھیں رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔‘‘ گویا یوں کہا گیا ہے کہ ہم پر واضح ہو چکا ہے کہ یہ بت گھڑے ہوئے اور ناقص ہیں جو کسی نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ موت و حیات کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ دوبارہ اٹھانے ہی کا۔ پس جس ذات کے یہ اوصاف ہوں وہ ذرہ بھر عبادت کی مستحق نہیں ۔ قلوب ایسے معبود کے طالب ہوتے ہیں جن کی وہ عبادت کریں اور ان سے اپنی حوائج کا سوال کریں … پس ان کے جواب میں ، اس ہستی کی عبادت کی ترغیب دی گئی ہے جو عبادت کی مستحق ہے۔ ﴿ فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ ﴾ ’’پس اللہ ہی کے ہاں رزق طلب کرو۔‘‘ کیونکہ وہی رزق میسر اور مقدر کرتا ہے اور وہی اس شخص کی دعا قبول کرتا ہے جو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے لیے اس سے دعا کرتا ہے۔ ﴿ وَاعْبُدُوْهُ ﴾ ’’اور اسی (اکیلے) کی عبادت کرو‘‘ جس کا کوئی شریک نہیں کیونکہ وہ کامل، نفع و نقصان دینے والا اور تدبیر کائنات میں متفرد ہے۔ ﴿وَاشْكُرُوْا لَهٗ ﴾ اور اسی (اکیلے) کا شکر کرو‘‘ کیونکہ جتنی بھی تمھیں نعمتیں حاصل ہوئی ہیں یا تمام مخلوق کو حاصل ہو رہی ہیں صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور جو بھی مصیبت ان سے دور ہوتی ہے ان کو دور کرنے والا وہی ہے۔ ﴿ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ ﴾ ’’تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ تب وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا اور جو کچھ تم چھپاتے اور ظاہر کرتے رہے ہو اس کے بارے میں تمھیں آگاہ کرے گا پس تم شرک کی حالت میں اس کی خدمت میں حاضر ہونے سے بچو اور ان امور میں رغبت رکھو جو تمھیں اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں اور جب تم اس کے پاس حاضر ہوگے تو وہ تمھیں ان پر ثواب عطا کرے گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 18 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورترومالروم

غلطی کی اطلاع دیں

مزید