العنكبوت

عنکبوت

69 آیاتمکیپارہ 20

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 2

    أَحَسِبَ ٱلنَّاسُ أَن يُتْرَكُوٓا۟ أَن يَقُولُوٓا۟ ءَامَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ

    کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان ﻻئے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے؟.[1]

    حواشی

    [1] یعنی یہ گمان کہ صرف زبان سے ایمان لانے کے بعد، بغیر امتحان لیے، انہیں چھوڑ دیا جائے گا، صحیح نہیں۔ بلکہ انہیں جان ومال کی تکالیف اور دیگر آزمائشوں کے ذریعے سے جانچا پر کھا جائے گا تاکہ کھرے کھوٹے کا، سچے جھوٹے کا اور مومن ومنافق کا پتہ چل جائے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 1 - 3 کی تفسیر

    [3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بیان فرماتا ہے کہ یہ اس کی حکمت کا تقاضا نہیں کہ جس کسی نے کہہ دیا کہ ’’وہ مومن ہے‘‘ اور وہ ایمان کا دعویٰ کرے … اسے ایسی حالت میں باقی رکھا جائے کہ جس میں وہ آزمائش و ابتلا سے سلامت رہے گا اور اسے کوئی ایسا امر پیش نہیں آئے گا جو اس کے ایمان اور اس کی فروع کو مضطرب کرے اور اگر معاملہ اسی طرح ہو تو سچے اور جھوٹے، حق اور باطل میں امتیاز نہیں ہو سکتا لیکن اس کی عادت یہ رہی ہے کہ وہ اہل ایمان کو خوشحالی اور تنگدستی، راحت اور مشقت، بشاشت اور ناگواری، فراخی اور محتاجی، بعض اوقات دشمنوں کی فتح و غلبہ اور دشمنوں کے خلاف قول و فعل کے ساتھ جہاد وغیرہ جیسی آزمائشوں کے ذریعے سے آزماتا ہے جو تمام تر شبہات کے فتنے کی طرف لوٹتی ہیں جو عقیدہ کی معارض ہیں اور شہوات کی طرف لوٹتی ہیں ، جو ارادے کی معارض ہیں ۔ شبہات کے وارد ہونے کے وقت جس کسی کا ایمان مضبوط رہتا ہے اور متزلزل نہیں ہوتا اور اس حق کے ذریعے سے شبہات کو دور کرتا ہے جو اس کے پاس ہے اور ان شہوات کے وارد ہونے کے وقت… جو گناہ اور معاصی کے موجب اور داعی ہیں یا وہ اسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم سے روگرداں کرتے ہیں … ایمان کے تقاضوں پر عمل کرتا ہے، اپنی شہوات کے خلاف جدوجہد کرتا ہے یہ چیز اس کے ایمان کی صداقت اور صحت پر دلالت کرتی ہے۔ شبہات کے وارد ہونے کے وقت جس کسی کے دل میں شک وریب جڑ پکڑ لیتا ہے اور شہوات کے پیش آنے پر شہوات اسے گناہوں کی طرف موڑ دیتی یا واجبات کی ادائیگی سے روک دیتی ہیں تو یہ چیز اس کے ایمان کی عدم صحت اور عدم صداقت پر دلالت کرتی ہے۔ اس مقام پر لوگ بہت سے درجات میں منقسم ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شمار نہیں کر سکتا کچھ لوگوں کے پاس بہت قلیل ایمان اور کچھ لوگ اس سے بہت زیادہ سے بہرہ ور ہیں ۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں دنیا و آخرت کی زندگی میں قول ثابت کے ذریعے سے ثابت قدمی عطا کرے اور ہمیں اپنے دین پر ثبات سے سرفراز کرے۔ ابتلا اور امتحان نفوس انسانی کے لیے ایک بھٹی کی مانند ہے جو اچھی چیز میں سے گندگی اور میل کچیل کو نکال باہر کرتی ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 2 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورترومالروم

غلطی کی اطلاع دیں

مزید