العنكبوت

عنکبوت

69 آیاتمکیپارہ 20

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 20

    قُلْ سِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ بَدَأَ ٱلْخَلْقَ ۚ ثُمَّ ٱللَّهُ يُنشِئُ ٱلنَّشْأَةَ ٱلْـَٔاخِرَةَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ

    کہہ دیجئے! کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی[1] کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداءً پیدائش کی۔ پھر اللہ تعالیٰ ہی دوسری نئی پیدائش کرے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے.

    حواشی

    [1] یعنی آفاق میں پھیلی ہوئی اللہ کی نشانیاں دیکھو زمین پر غور کرو، کس طرح اسے بچھایا، اس میں پہاڑ ، وادیاں، نہریں اور سمندر بنائے، اسی سے انواع واقسام کی روزیاں اور پھل پیدا کیے۔ کیا یہ سب چیزیں اس بات پر دلالت نہیں کرتیں کہ انہیں بنایا گیا ہے اور ان کا کوئی بنانے والا ہے؟

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 20 کی تفسیر

    [20] ﴿ قُ٘لْ ﴾ ’’آپ (ان سے) کہہ دیجیے!‘‘ کہ اگر انھیں ابتدائے تخلیق میں کوئی شک و شبہ ہے تو ﴿ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ﴾ ’’تم زمین میں چلو پھرو‘‘ اپنے قلب و بدن کے ساتھ ﴿ فَانْ٘ظُ٘رُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ﴾ ’’پھر غور کرو کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ابتدا کی‘‘ تم دیکھو گے کہ انسانوں کے گروہ تھوڑا تھوڑا کر کے وجود میں آ رہے ہیں ، تم دیکھو گے کہ درخت اور نباتات وقتاً فوقتاً جنم لے رہے ہیں ، تم بادلوں اور ہواؤں کو پاؤ گے کہ وہ لگاتار اپنی تجدید کے مراحل میں رہتے ہیں بلکہ تمام مخلوق دائمی طور پر ابتدائے تخلیق اور اعادۂ تخلیق کے دائرے میں گردش کر رہی ہے۔ ان کی موت صغریٰ … یعنی نیند … کے وقت، ان پر غور کرو کہ رات اپنی تاریکیوں کے ساتھ ان کو ڈھانپ لیتی ہے تب تمام حرکات ساکن اور تمام آوازیں منقطع ہو جاتی ہیں ۔ اپنے بستروں اور ٹھکانوں میں تمام مخلوق کی حالت یوں ہوتی ہے جیسے وہ مردہ ہوں ۔ رات بھر وہ اس حالت میں رہتے ہیں حتیٰ کہ جب صبح نمودار ہوتی ہے تو وہ اپنی نیند سے بیدار اور اپنی اس عارضی موت کے بعد دوبارہ زندہ كيے جاتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہوئے اٹھتے ہیں : (اَلْحَمْدُ لِلٰہِ الَّذِي اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُورِ) ’’تعریف ہے اللہ کی جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف قبر سے اٹھ کر جانا ہے۔‘‘ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ ثُمَّ اللّٰهُ ﴾ ’’پھر اللہ ہی‘‘ یعنی اس اعادۂ تخلیق کے بعد ﴿ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ ﴾ ’’دوسری نئی پیدائش کرے گا۔‘‘ یہ ایسی زندگی ہے جس میں موت ہے نہ نیند اس زندگی کو، جنت یا جہنم میں … خلود اور دوام حاصل ہو گا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُ٘لِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی قدرت کسی چیزمیں عاجز نہیں جس طرح وہ تخلیق کی ابتدا پر قادر ہے اسی طرح تخلیق کے اعادہ پر اس کا قادر ہونا زیادہ اولیٰ اور زیادہ لائق ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 20 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورترومالروم

غلطی کی اطلاع دیں

مزید