العنكبوت

عنکبوت

69 آیاتمکیپارہ 20

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 24

    فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ ٱقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ فَأَنجَىٰهُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلنَّارِ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ

    ان کی قوم کا جواب بجز اس کے کچھ نہ تھا کہ کہنے لگے کہ اسے مار ڈالو یا اسے جلا دو[1] ۔ آخر اللہ نے انہیں آگ سے بچا لیا[2]، اس میں ایمان والے لوگوں کے لیے تو بہت سی نشانیاں ہیں.

    حواشی

    [1] ان آیات سے قبل حضرت ابراہیم (عليه السلام) کا قصہ بیان ہو رہا تھا، اب پھر اس کا بقیہ بیان کیا جارہا ہے۔ درمیان میں جملہ معترضہ کے طور پر اللہ کی توحید اور اس کی قدرت وطاقت کو بیان کیا گیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سب حضرت ابراہیم (عليه السلام) ہی کے وعظ کا حصہ ہے، جس میں انہوں نے توحید ومعاد کے اثبات میں دلائل دیئے ہیں، جن کا کوئی جواب جب ان کی قوم سےنہیں بنا تو انہوں نے اس کا جواب ظلم وتشدد کی اس کارروائی سے دیا، جس کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اسے قتل کر دو یا جلا ڈالو۔ چنانچہ انہوں نے آگ کا ایک بہت بڑا الاؤ تیار کرکے حضرت ابراہیم (عليه السلام) کو منجنیق کے ذریعے سے اس میں پھینک دیا۔ [2] یعنی اللہ نے اس آگ کو گلزار کی صورت میں بدل کر اپنے بندے کو بچا لیا، جیسا کہ سورہ انبیاء میں گزرا۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 24 کی تفسیر

    [24] یعنی جب ابراہیمu نے اپنی قوم کو اپنے رب کی طرف بلایا تو آپ کی قوم نے آپ کی دعوت پر لبیک کہی نہ آپ کی خیرخواہی کی اور نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی بعثت کی نعمت کی رؤیت کو اپنا راہنما ہی بنایا۔ ان کا جواب تو بدترین جواب تھا۔ ﴿ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اسے مار ڈالو یا جلادو۔‘‘ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو۔ وہ قدرت رکھنے والے اصحاب اقتدار لوگ تھے، چنانچہ انھوں نے ابراہیمu کو آگ میں ڈال دیا ﴿ فَاَنْؔجٰؔىهُ اللّٰهُ ﴾ ’’پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچا لیا آگ سے‘‘ ﴿ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ﴾ ’’بے شک اس میں ایمان دار لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں ۔‘‘ پس وہ اہل ایمان اور انبیاء و رسل کی تعلیمات کی صحت، ان کی نیکی اور ان کی خیرخواہی اور انبیاء و رسل کے مخالفین و معارضین کے موقف کے بطلان کو خوب جانتے تھے۔ گویا رسولوں کے مخالفین ان کی تکذیب کی ایک دوسرے کو وصیت کیا کرتے اور ایک دوسرے کو ترغیب دیا کرتے تھے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 24 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورترومالروم

غلطی کی اطلاع دیں

مزید