العنكبوت

عنکبوت

69 آیاتمکیپارہ 20

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 25

    وَقَالَ إِنَّمَا ٱتَّخَذْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ أَوْثَـٰنًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ ثُمَّ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَىٰكُمُ ٱلنَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّـٰصِرِينَ

    (حضرت ابراہیم علیہ السلام نے) کہا کہ تم نے جن بتوں کی پرستش اللہ کے سوا کی ہے انہیں تم نے اپنی آپس کی دنیوی دوستی کی بنا ٹھہرا لی ہے[1] ، تم سب قیامت کے دن ایک دوسرے سے کفر کرنے لگو گے[2] اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگو گے۔ اور تمہارا سب کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا اور تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا.

    حواشی

    [1] یعنی یہ تمہارے قومی بت ہیں جو تمہاری اجتماعیت اور آپس کی دوستی کی بنیاد ہیں۔ اگر تم ان کی عبادت چھوڑ دو تو تمہاری قومیت اور دوستی کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ [2] یعنی قیامت کے دن تم ایک دوسرے کا انکار اور دوستی کے بجائے ایک دوسرے پر لعنت کرو گے اور تابع ، متبوع کو ملامت اور متبوع، تابع سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 25 کی تفسیر

    [25] ﴿وَقَالَ ﴾ ابرہیمu نے، ان کے ساتھ خیرخواہی کی وجہ سے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا اتَّؔخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا﴾ ’’تم جو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو لے بیٹھے ہو، صرف دنیا میں باہم دوستی کے لیے۔‘‘ اس کی غایت و انتہا بس دنیا میں دوستی اور محبت ہے جو عنقریب ختم ہو جائے گی۔ ﴿ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْ٘فُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّیَلْ٘عَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾ ’’پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے کی دوستی کا انکار کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے۔‘‘ تمام عابد اور معبود ایک دوسرے سے براء ت کا اظہار کریں گے۔ ﴿وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءًؔ وَّكَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِیْنَ﴾ (الاحقاف:46؍6) ’’اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو یہ ان کے دشمن ہوجائیں گے اور ان کی پرستش سے صاف انکار کرجائیں گے۔‘‘ تب تم ایسی ہستیوں سے کیونکر تعلق رکھتے ہو جو عنقریب اپنے عبادت گزاروں سے بیزاری کا اظہار کریں گی۔ ﴿ وَّ ﴾ ’’اور‘‘ بے شک یعنی عابدوں اور معبودوں ، سب کا ٹھکانا ﴿النَّارُ ﴾ ’’جہنم ہو گا‘‘ اور کوئی انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے گا نہ ان سے اس کے عقاب کو دور کر سکے گا۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 25 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورترومالروم

غلطی کی اطلاع دیں

مزید