العنكبوت

عنکبوت

69 آیاتمکیپارہ 20

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 33

    وَلَمَّآ أَن جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِىٓءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَقَالُوا۟ لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ ۖ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلَّا ٱمْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ ٱلْغَـٰبِرِينَ

    پھر جب ہمارے قاصد لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وه ان کی وجہ سے غمگین ہوئے اور دل ہی دل میں رنج کرنے لگے[1] ۔ قاصدوں نے کہا آپ نہ خوف کھایئے نہ آزرده ہوں، ہم آپ کو مع آپ کے متعلقین کے بچالیں گے مگر آپ کی[2] بیوی کہ وه عذاب کے لیے باقی ره جانے والوں میں سے ہوگی.

    حواشی

    [1] سِيءَ بِهِمْ کے معنی ہیں۔ ان کے پاس ایسی چیز آئی جو انہیں بری لگی اور اس سے ڈر گئے۔ اس لیے کہ لوط (عليه السلام) نے ان فرشتوں کو، جو انسانی شکل میں آئے تھے، انسان ہی سمجھا۔ ڈرے اپنی قوم کی عادت بد اور سرکشی کی وجہ سے کہ ان خوبصورت مہمانوں کی آمد کا علم اگر انہیں ہوگیا تو وہ ان سے زبردستی بےحیائی کا ارتکاب کریں گے، جس سے میری رسوائی ہوگی۔ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا یہ کنایہ ہے عاجزی سے۔ جیسے ضَاقَتْ يَدُهُ (ہاتھ کا تنگ ہونا) کنایہ ہے فقر سے۔ یعنی ان خوش شکل مہمانوں کو بدخصلت قوم سے بچانے کی کوئی تدبیر انہیں نہیں سوجھی، جس کی وجہ سے وہ غمگین اور دل ہی دل میں پریشان تھے۔ [2] فرشتوں نے حضرت لوط (عليه السلام) کی اس پریشانی اور غم وحزن کی کیفیت کو دیکھا تو انہیں تسلی دی، اور کہا کہ آپ کوئی خوف اور حزن نہ کریں، ہم اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ ہمارا مقصد آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو، سوائے آپ کی بیوی کے، نجات دلانا ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 30 - 35 کی تفسیر

    [35-30] ان کا نبی ان سے مایوس ہو گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ اس کی قوم عذاب کی مستحق ہے، ان کے بہت زیادہ جھٹلانے کی وجہ سے حضرت لوط بے قرار ہو گئے آپ نے ان کے لیے بددعا کی ﴿ قَالَ رَبِّ انْ٘صُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ ﴾ ’’انھوں (لوطu) نے کہا، اے میرے رب! ان مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کر لی اور ان کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے فرشتے بھیجے۔ حضرت لوط کے پاس جانے سے قبل یہ فرشتے ابراہیمu کے پاس سے گزرے انھوں نے آپ کو اسحاق کی اور اس کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔ حضرت ابراہیمu نے ان سے پوچھا کہ ان کا کہاں کا ارادہ ہے انھوں نے کہا کہ وہ قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے آئے ہیں ۔ ابراہیمu نے ان کے ساتھ بحث کرتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا ﴾ ’’اس میں تو لوط بھی ہیں ۔‘‘ فرشتوں نے جواب دیا: ﴿ لَنُنَجِّیَنَّهٗ۠ وَاَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ٞۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ﴾ ’’ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچالیں گے بجز ان کی بیوی کے وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی۔‘‘ پھر وہ وہاں سے چلے گئے اور لوطu کے پاس آئے۔ ان کا آنا لوطu کو بہت ناگوار گزرا اور بہت تنگدل ہوئے کیونکہ آپ ان کو پہچان نہ پائے تھے وہ سمجھتے تھے کہ وہ مہمان اور مسافر ہیں اس لیے وہ ان کے بارے میں اپنی قوم کے رویے سے خائف تھے تو فرشتوں نے آپ سے کہا۔ ﴿ لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ﴾ ’’خوف کیجیے نہ رنج کیجیے۔‘‘ اور انھوں نے لوطu کو بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں ﴿ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَاَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰؔذِهِ الْ٘قَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ﴾ ’’ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچالیں گے بجز آپ کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی۔ بے شک ہم اس بستی کے رہنے والوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں کیونکہ یہ بدکاری کررہے تھے۔‘‘ فرشتوں نے لوطu سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں ۔ پس جب صبح ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں کو ان پر الٹ دیا اور اوپر والا حصہ نیچے کر دیا اور ان پر پے درپے کھنگر کے پتھر برسائے جنھوں نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا، لہٰذا وہ کہانیاں اور عبرت کا نشان بن کر رہ گئے۔ ﴿ وَلَقَدْ تَّرَؔكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ﴾ یعنی ہم نے دیار قوم لوط کو عقل مند لوگوں کے لیے واضح آثار اور ان کے دلوں کے لیے عبرت بنا دیا پس وہ ان آثار سے منتفع ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِنَّـكُمْ لَ٘تَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ۰۰ وَبِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴾ (الصافات: 37؍137-138) ’’اور تم دن رات ان کے اجڑے ہوئے گھروں پر گزرتے ہو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 33 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورترومالروم

غلطی کی اطلاع دیں

مزید