العنكبوت

عنکبوت

69 آیاتمکیپارہ 20

محمودخلیل حصریحفص عن عاصم - مرتل

پڑھنے کی ترتیبات

تجوید کے رنگوں کی رہنمائی

رنگوں کے ساتھ نام، مثالیں اور مختلف قسم کے خطوط بھی قواعد کی پہچان کرواتے ہیں۔ مثالیں شائع شدہ قرآنی متن سے لی گئی ہیں۔

غنہ
وَمِمَّا2:3
اخفا
يُنفِقُونَ2:3
ادغام
هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ2:2
اقلاب
أَلِيمٌۢ بِمَا2:10
قلقلہ
رَزَقْنَـٰهُمْ2:3
مد: ۲ حرکات
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
مد: ۲، ۴ یا ۶ حرکات
ٱلرَّحِيمِ1:1
مد: ۴ یا ۵ حرکات
بِمَآ2:4
مد: ۶ حرکات
ٱلضَّآلِّينَ1:7
ہمزۂ وصل
ٱللَّهِ1:1
لام شمسی
ٱلرَّحْمَـٰنِ1:1
غیر ملفوظ حروف
ٱلصَّلَوٰةَ2:3

Tajweed annotations: cpfair/quran-tajweed (CC BY 4.0), built from ReciteQuran.com and the Dar al-Maarifah tajweed masahif; offsets adapted to the current Tanzil text.

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi. ورژن: 1.1.3. آخری تازہ کاری: 2025-08-13. QuranEnc.com

  1. 50

    وَقَالُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَـٰتٌ مِّن رَّبِّهِۦ ۖ قُلْ إِنَّمَا ٱلْـَٔايَـٰتُ عِندَ ٱللَّهِ وَإِنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٌ مُّبِينٌ

    انہوں نے کہا کہ اس پر کچھ نشانیاں (معجزات) اس کے رب کی طرف سے کیوں نہیں اتارے گئے۔ آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں تو سب اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں[1] میں تو صرف کھلم کھلا آگاه کر دینے واﻻ ہوں.

    حواشی

    [1] یعنی یہ نشانیاں اس کی حکمت ومشیت، جن بندوں پر اتارنے کی مقتضی ہوتی ہے، وہاں وہ اتارتا ہے، اس میں اللہ کے سوا کسی کا اختیار نہیں ہے۔

    تفسیر سعدی (اردو)

    آیات 50 کی تفسیر

    [50] جب رسول اللہ e یہ کتاب عظیم لے کر آئے تو ان ظالموں نے اعتراض کیا اور معینہ معجزات کے نزول کا مطالبہ کیا جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَقَالُوْا لَ٘نْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبـُوْعًا﴾ (بنی اسراء یل:17؍90) ’’اور انھوں نے کہا: ہم تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تو زمین کو پھاڑ کر ہمارے لیے پانی کا ایک چشمہ جاری نہ کر دے۔‘‘ معجزات و آیات کا تعین ان کے بس کی بات ہے نہ رسول (e)کے اختیار میں ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی تدابیر ہیں اور کسی کے اختیار میں کچھ نہیں۔ اس لیے فرمایا: ﴿ قُ٘لْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ﴾ ’’کہہ دیجیے! معجزات تو اللہ ہی کے پاس ہیں۔‘‘ پس اگر وہ چاہے تو یہ آیات نازل کر دے اور نہ چاہے تو روک دے۔ ﴿وَاِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ ﴾ ’’اور میں تو صرف کھلا خبردار کرنے والا ہوں‘‘ اور اس سے زیادہ میرا کوئی مرتبہ نہیں۔ مقصد تو باطل سے حق کو واضح کرنا ہے۔ جب کسی بھی طریقے سے مقصد حاصل ہو گیا تو معین معجزات کا مطالبہ کرنا ظلم و جور، اللہ تعالیٰ اور حق کے ساتھ تکبر اور عناد ہے، بلکہ اگر رسول اللہ e ان آیات و معجزات کو نازل کرنے پر قادر ہوتے اور ان کے دلوں میں یہ بات ہوتی کہ وہ ان معجزات کے بغیر حق کو نہیں مانیں گے، تو یہ حقیقی ایمان نہیں بلکہ ایک ایسی چیز ہے جو ان کی خواہشات نفس کے مطابق ہے اس لیے وہ ایمان لے آئے۔ وہ اس لیے ایمان نہیں لائے کہ وہ حق ہے بلکہ اس لیے ایمان لائے ہیں کہ ان کا معجزے کا مطالبہ پورا ہو گیا۔ فرض کیا اگر ایسا ہی ہو تو معجزات نازل کرنے کا کون سا فائدہ ہے۔

    تفسیر سعدی, اردو v1.0.0, QuranEnc.com

    آیت کے اختیارات
    آیت کا صفحہ کھولیں 50 اپنی تلاوت کا جائزہ لیں: تجرباتی
    ذاتی نوٹ

تفسیر

اگلی سورترومالروم

غلطی کی اطلاع دیں

مزید